شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 142
انتہائی حلیم طبیعت کے مالک تھے۔کبھی غصے میں نہیں دیکھا۔جماعتی کاموں میں غیرت تھی۔بچوں کو جماعتی کاموں اور نمازوں میں کوتاہی کی صورت میں معافی نہیں ملتی تھی۔عرصہ دراز تک سیکرٹری تعلیم القرآن رہے۔لوگوں کو گھروں میں جا جا کر قرآن کریم کی تعلیم دی۔یہ لوگ آپ کی شہادت پر زار و قطار روتے ہوئے ملے کہ ان کا یہ احسان ہماری نسلیں کبھی نہیں بھلا سکتیں۔عزیز و اقارب اور دیگر رشتہ داروں کی ہمیشہ مشکل حالات میں مدد کی اور ان کو سپورٹ کیا۔جو بھی آپ کو پنشن ملتی تھی وہ ساری کی ساری غریبوں پر ہی خرچ کر دیتے تھے۔نماز ظہر و عصر گھر میں باجماعت ادا کرتے اور باقی تین نمازیں مسجد میں جا کر ادا کرتے تھے۔کبھی تہجد نہیں چھوڑی۔داماد اور بیٹے میں کبھی فرق نہیں کیا۔بہوؤں کو اپنی بیٹی سمجھا۔سانحہ سے ایک جمعہ قبل تین نئے سفید سوٹ سلوائے دونوں بیٹوں نے اپنے اپنے سوٹ پہن لئے۔جب شہید مرحوم کو کہا گیا کہ تیسرا سوٹ آپ پہن لیں تو انہوں نے کہا کہ نہیں میں اگلے جمعہ پہنوں گا۔کچھ عرصہ قبل آپ کی بیٹی نے خواب میں دیکھا کہ کوئی تہہ خانے والی بلڈنگ ہے جس میں میڈل تقسیم کیے جارہے ہیں۔ان میں میرے والد صاحب بھی شامل ہیں۔خواب میں ہی کوئی شخص کہتا ہے کہ یہ میڈل ان کو دیئے جارہے ہیں جنہوں نے کوئی خاص کارنامہ سرانجام دیا ہے۔مطالعہ کا بے حد شوق تھا۔ان کی اپنی لائبریری تھی جس میں ہزاروں کتابیں موجود تھیں۔ان کے ایک بیٹے خالد محمود صاحب واقف زندگی ہیں اور تحریک جدید کی سندھ کی زمینوں میں مینجر ہیں۔اللہ تعالیٰ شہید مرحوم کے درجات بلند فرمائے۔مکرم ڈاکٹر عمر احمد صاحب شہید اگلا ذکر ہے مکرم ڈاکٹر عمر احمد صاحب شہید ابن مکرم ڈاکٹر عبدالشکور میاں صاحب کا۔شہید مرحوم کے دادا چوہدری عبدالستار صاحب نے 1921ء یا 22 ء میں بیعت کی تھی۔ان کے ننھیال گورداسپور جبکہ ددھیال میاں چنوں کے رہنے والے تھے۔ان کے والد صاحب کے خالو حضرت مولوی محمد دین صاحب لمبا عرصہ صدر، صدر انجمن احمد یہ رہے ہیں۔142