شہدائے لاہور کا ذکر خیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 141 of 243

شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 141

تھے۔حضرت مولانا عبد الرحمن صاحب جٹ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سابق ناظرِ اعلیٰ قادیان (بھارت) ان کے چچا تھے۔شہید مرحوم 1933ء میں قادیان میں پیدا ہوئے۔ان کی اپنی زندگی بھی ایک معجزہ تھی۔ان کے بڑے بھائی اور ان کی عمر میں 18 سال کا فرق تھا کیونکہ درمیان کی ساری اولاد چار سے پانچ سال کی عمر میں فوت ہوگئی اور ان کی صحت بھی چار پانچ سال کی عمر میں خراب ہو گئی۔ان کی والدہ صاحبہ ان کو لے کر حضرت اماں جان رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس گئیں۔حضرت اماں جان رضی اللہ تعالیٰ عنہا ان کو لے کر حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس گئیں۔ان کی والدہ نے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پنجابی میں عرض کیا کہ ” حضور اے وی جاریا ہے ( کہ حضور یہ بھی جا رہا ہے)۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کو (اس بچے کو گود میں لے لیا اور آپ کا نام شریف احمد سے بدل کر محمد بیٹی رکھ دیا۔حضور رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ان دعاؤں کے طفیل آپ نے نہ صرف لمبی عمر پائی بلکہ شہید ہو کر ابدی حیات پاگئے۔پارٹیشن کے بعد فیصل آباد آگئے۔ہجرت سے قبل ان کی ڈیوٹی مینارہ اسیح قادیان پر ہوتی تھی۔یہ دور بین لگا کر ارد گرد کے ماحول کی نگرانی کیا کرتے تھے۔سول انجینئر نگ کے بعد مختلف جگہوں پر تعینات رہے۔82-1981ء میں بسلسلہ ملازمت عراق چلے گئے جہاں ان کو جماعت کو Establish کرنے کا موقع بھی ملا۔بوقت شہادت ان کی عمر 77 سال تھی۔بیت النور ماڈل ٹاؤن میں جام شہادت نوش فرمایا۔سانحہ کے دوران مسجد کے مین ہال میں کرسیوں پر پہلی رو میں بیٹھے تھے کہ اچانک فائرنگ شروع ہوگئی۔کسی دوست نے کہا کہ آپ پیچھے چلے جائیں تو کہا کہ گھبراؤ نہیں اللہ یہیں فضل کرے گا۔اس کے بعد عہد یداران کی ہدایت پر دیوار کے ساتھ نیچے بیٹھ گئے۔اسی دوران دہشت گرد نے گرنیڈ پھینکے جن میں سے ایک گرنیڈ کے پھٹنے سے ان کے سرکا پچھلا حصہ زخمی ہو گیا جس سے موقع پر ہی شہید ہو گئے۔ان کے دو بیٹے دارالذکر میں ڈیوٹی پر تھے جو کہ رات 12 بجے تک ریسکیو کا کام کرتے رہے۔حالانکہ ان کو والد صاحب کی شہادت کی اطلاع مل چکی تھی۔اہل خانہ نے بتایا کہ شہید مرحوم 141