شہدائے لاہور کا ذکر خیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 135 of 243

شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 135

آج بھی لاہور کی مساجد کے شہداء کا ذکر خیر ہوگا۔مکرم عبد الرحمن صاحب شہید پہلا نام آج کی فہرست میں ہے۔مکرم عبدالرحمن صاحب شہید ابن مکرم محمد جاوید اسلم صاحب کا۔شہید مرحوم نے اپنی والدہ ، خالہ اور چھوٹی بہن کے ہمراہ اگست 2008ء میں احمدیت قبول کی تھی۔نو مبائع تھے۔حکمت کے تحت دیگر خاندان میں فوری طور پر اس کا اظہار نہیں کیا۔شہید مرحوم کا خیال تھا کہ MBBS کی تکمیل کے بعد دیگر تمام رشتے داروں کو بتا دیں گے۔میڈیکل کی تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ننھیال کی طرف سے سوائے نانا کے سب احمدی ہیں۔ان کی نانی محترمہ سعیدہ صاحبہ مرحومہ نہایت ہی مخلص احمدی تھیں۔بہشتی مقبرہ میں مدفون ہیں۔نہایت مخالفانہ حالات میں بھی وہ احمدیت سے وابستہ رہیں۔شہید مرحوم کی عمر شہادت کے وقت اکیس سال تھی اور دارالذکر میں جام شہادت نوش فرمایا۔سانحہ کے روز شہید مرحوم کالج سے نماز جمعہ کے لئے سیدھے مسجد دارالذکر پہنچے۔مسجد کے مین ہال میں بیٹھے تھے تو والدہ کو فون پر بتایا کہ بہت گولیاں چل رہی ہیں ، آپ فکر نہ کریں۔اور ساتھ ہی خالہ زاد بھائی کو فون کر کے کہا کہ اگر میری شہادت ہو جائے تو میری تدفین ربوہ میں کرنا۔ان کا خیال تھا کہ باقی عزیز رشتہ دار شاید ربوہ لے جانے نہ دیں۔شہید مرحوم کو تین گولیاں لگیں جس سے شہید ہو گئے۔ان کے خاندان کے دیگر افراد بھی اس سانحہ میں شہید ہوئے جن میں ملک عبدالرشید صاحب، ملک انصار الحق صاحب اور ملک زبیر احمد صاحب شامل ہیں۔سانحہ کے بعد جب دیگر خاندان اور اہل محلہ و علم ہوا تو ان کی خالہ کو ان کے شوہر نے گھر 135