شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 121
ریٹائر ہوئے۔اور 35 سال سے لاہور میں مقیم تھے۔شہادت کے وقت ان کی عمر 58 سال تھی۔مسجد بیت النور ماڈل ٹاؤن میں جام شہادت نوش فرمایا۔نماز جمعہ عموماً ماڈل ٹاؤن میں ادا کرتے تھے۔سانحہ کے روز مسجد کے عقبی ہال میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اس دوران ایک گولی ان کے ماتھے پر لگی جس سے موقعہ پر شہید ہو گئے۔اہلِ خانہ نے بتایا کہ جماعتی خدمت میں ہمیشہ پیش پیش رہتے۔وقف عارضی کی متعدد مرتبہ سعادت ملی۔بہت نرم دل اور انتہائی سادہ طبیعت کے مالک تھے۔محنتی انسان تھے۔ان کے بیٹے قیصر محمود صاحب اس وقت ڈیوٹی پر موجود تھے جو اس سانحہ میں محفوظ رہے۔شہادت سے چار دن قبل ان کی اہلیہ نے خواب دیکھا کہ ایک خوبصورت باغ ہے جس میں ٹھنڈی ہوا اور نہریں چل رہی ہیں خوبصورت محل بنا ہوا ہے۔محمود صاحب مجھے کہتے ہیں کہ تم لوگوں کے لئے میں نے گھر بنا دیا ہے یہ میرا محل ہے اب میں نے یہاں رہنا ہے۔پورے محل میں خوشبو ہی خوشبو پھیلی ہوئی ہے۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔مکرم شیخ محمد اکرام اطہر صاحب شہید مکرم شیخ محمد اکرام اطہر صاحب شہیدا بن مکرم شیخ شمس الدین صاحب۔شہید مرحوم کے والد صاحب چنگڑانوالہ ضلع سرگودھا کے رہنے والے تھے۔طاعون سے جب سب رشتے دار وفات پاگئے تو مڈھ رانجھا ضلع سرگودھا میں آ کر آباد ہوئے۔شہید مرحوم کے والد کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور بعد میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی خدمت کرنے یعنی دبانے کا موقع ملا۔تاہم بیعت کی سعادت حضرت مصلح موعودؓ کے دورِ خلافت میں ملی۔شہید مرحوم کے خسر مکرم خواجہ محمد شریف صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی تھے۔ان کے والد محترم شیخ شمس الدین صاحب کی تبلیغ کی وجہ سے حضرت مرزا عبدالحق صاحب کے خاندان میں احمدیت آئی۔مولوی عطاء اللہ خان صاحب درویش قادیان ان کے بھائی تھے اور مکرم منیر احمد منور صاحب مربی سلسلہ جو یہاں ( جرمنی میں ) بھی رہے 121