شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 120
جاپان میں ہمارے ایک ملک منیر احمد صاحب ہیں ، انہوں نے لکھا کہ مرزا ظفر احمد صاحب جب جاپان تشریف لائے تو ابھی شادی شدہ نہ تھے۔بڑے سادہ طبیعت کے مالک اور بہت کم گو تھے۔سعید فطرت اور نیک سیرت انسان تھے۔دین کی خدمت کا جذبہ آپ کی سرشت میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔آپ اس مقصد کے حصول کے لئے ہر وقت تیار نظر آتے۔اطاعت کے بہت بلند معیار پر فائز تھے۔جماعت کے چھوٹے چھوٹے عہد یداروں سے لے کر بڑے عہدیدار تک سب سے برابر کا سلوک کرتے اور عزت سے پیش آتے کسی جماعتی خدمت کا کبھی انکار نہ کرتے۔ایک سال جاپان کے مثالی خادم بھی قرار پائے۔آپ پر رشک آتا تھا۔آپ جب بھی کوئی کام اپنے اوپر لیتے تو اسے بہت ایمانداری اور احسن طریق پر نبھانے کی کوشش کرتے۔جاپان سے جانے سے پہلے مستقل طور پر اپنے آپ کو دین کی خدمت کے لئے وقف کر دیا تھا۔مغفور احمد منیب صاحب مبلغ ہیں، ربوہ میں ہمارے مربی ہیں۔یہ بھی جاپان میں رہے ہوئے ہیں۔وہ لکھتے ہیں کہ مرزا ظفر احمد صاحب جو لمبا عرصہ جاپان میں مقیم رہے اللہ کے فضل سے جاپان میں موصوف کی دینی خدمات کسی طرح بھی واقفین زندگی سے کم نہیں تھیں۔بلکہ ان کی قربانیاں احباب کے لئے قابل تقلید تھیں۔وقت کی قربانی ، مال کی قربانی میں سب سے آگے تھے۔آنریری مبلغ تھے، سیکرٹری مال جاپان تھے، صدر جماعت ٹوکیو رہے۔خلافت سے والہانہ عشق تھا۔نماز میں توجہ سے دعا کرتے۔ان کی آنکھیں نمناک ہو جاتیں۔محبت کرنے والے تھے ، ہر ایک کی تکلیف کا سن کے آنکھیں نمناک ہو جاتیں۔مکرم محمود احمد صاحب شہید اگلا ذکر ہے مکرم محمود احد صاحب شہید ابن مکرم اکبر علی صاحب کا۔شہید مرحوم بدوملہی ضلع نارووال کے رہنے والے تھے۔ان کے دادا حضرت عنایت اللہ صاحب رضی اللہ عنہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی تھے۔محکمہ ٹیلیفون سے وابستہ تھے۔2008ء میں 120