شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 112
کا غذات مل گئے ، اور جو انکوائری ہوئی پھر بغیر وجہ ملازمت سے برطرف کیا گیا تھا اس پہ فوراً ایکشن ہوا اور ان کو بحال کر دیا اور ساتھ یہ نوٹ بھی اس پر لکھا ہوا آ گیا کہ دو سال کا عرصہ جو آپ کو برطرف کیا گیا ہے، یہ چھٹی کا عرصہ سمجھا جائے گا۔تو اس طرح وہ خواب جو اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے احمدی بھائی کو دکھائی تھی وہ بھی پوری ہوئی۔اور یہ بھی اللہ تعالیٰ کا عجیب کام ہے کہ اگر ایک مخالف احمدیت نے ان کو برطرف کیا تو بحالی بھی مخالف احمدیت سے ہی کروائی اور ضیاء الحق نے ان کی بحالی کی۔ان کے بیٹے کہتے ہیں کہ لاہور کی انتظامیہ نے ہمیں کہا کہ حفاظت کے پیش نظر اپنی کار بدل لو تا کہ نمبر پلیٹ تبدیل ہو جائے۔اور دارالذکر آنے جانے کے راستے بدل بدل کر آیا کرو۔تو اپنے والد صاحب کو جب میں نے کہا تو انہوں نے کہا ٹھیک ہے یہ کرلو، اور ساتھ یہ بھی ہدایت تھی کہ کبھی کبھی جمعہ چھوڑ دیا کرو۔جب یہ بات میں نے والد صاحب سے کی تو انہوں نے کہا کہ جمعہ تو نہیں چھوڑوں گا چاہے جو مرضی ہو جائے ، دشمن زیادہ سے زیادہ کیا کر سکتا ہے، ہمیں شہید ہی کر دے گا، اور ہمیں کیا چاہئے۔مکرم چوہدری حفیظ احمد کاہلوں صاحب ایڈووکیٹ شہید اگلے شہید ہیں مکرم چوہدری حفیظ احمد کاہلوں صاحب ایڈووکیٹ۔ان کے والد تھے مکرم چوہدری نذیر حسین سیالکوٹی صاحب۔ان کا تعلق بھی ضلع سیالکوٹ سے ہے تعلیم ایل ایل بی تھی۔با قاعدہ وکالت کرتے تھے۔پہلے سیالکوٹ میں پھر لاہور شفٹ ہو گئے۔سپریم کورٹ میں ایڈووکیٹ کے طور پر کام کرتے تھے۔شہادت کے وقت ان کی عمر 83 سال تھی اور ماڈل ٹاؤن کی مسجد میں ان کی شہادت ہوئی۔جمعہ ادا کرنے کے لئے مسجد بیت النور کے مین ہال میں تھے۔حملے کے دوران سینے میں گولی لگنے سے زخمی ہو گئے۔سانس بحال کرنے کی کافی کوشش کی گئی لیکن وہیں شہادت ہوئی۔جنرل ریٹائرڈ ناصر شہید، مکرم محمد غالب صاحب شہید، مکرم چوہدری اعجاز نصر اللہ خان صاحب شہید بھی ، یہ سب حفیظ صاحب کے رشتہ دار تھے۔112