شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 94
بہر حال اس سے لوگوں کو توجہ بھی پیدا ہوتی ہے، اسی طرح ان کو توجہ پیدا ہوئی۔شہید تو پیدائشی احمدی تھے۔ان کے والد وکیل تھے، پھر انجمن کے ممبر بھی تھے۔رانچی میں انہوں نے میٹرک کیا اور میٹرک فرسٹ ڈویژن میں کیا تو والد بہت خوش ہوئے۔پھر پٹنہ یونیورسٹی سے ایم اے انگلش کیا۔پارٹیشن کے بعد یہ لاہور آ گئے اور 1969ء میں ایم سی بی جوائن کیا۔1997ء میں بینک مینیجر کی حیثیت سے ریٹائرڈ ہوئے۔لیکن ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ایم سی بی بینک میں کام کرتے رہے۔شہادت کے وقت ان کی عمر 72 سال تھی۔اور نظام وصیت میں شامل تھے۔مسجد میں آتے ہی سنتیں ادا کیں۔مربی صاحب سے ایک صف پیچھے بیٹھ گئے۔اور ساتھ بیٹھے بزرگ مکرم مبارک احمد صاحب کے ماتھے پر گولی لگی تو ان کو تسلی دیتے رہے۔اسی دوران دہشتگرد کی گولیوں کا نشانہ بنے اور زخمی ہو گئے ، اٹھنے کی بہت کوشش کی لیکن اٹھ نہیں سکے۔سامنے سے گولی نہیں لگی تھی البتہ ریڑھ کی ہڈی میں گولی لگی اور وہیں شہید ہوگئے۔بہت دھیمی طبیعت کے مالک تھے۔لیکن اگر کوئی شخص جماعت یا بزرگانِ سلسلہ کے متعلق کوئی بات کرتا تو ان کو ہرگز برداشت نہیں کرتے تھے۔کم گو تھے لیکن اگر کوئی حضرت مسیح موعود علیہ السلام یا خلفائے سلسلہ کا ذکر چھیڑ دیتا تو گھنٹوں ان سے باتیں کرتے رہتے تھے۔جماعت سے خاموش لیکن گہری وابستگی تھی اور عشق کی حد تک پیار تھا۔سب بچوں کو تکلیف کے باوجود پڑھایا۔بچے ڈاکٹر بنے۔ایک کو آئی ٹی میں تعلیم دلوائی۔اور ایک بیٹی کو فرنچ میں ایم اے کروایا۔سب بچے اللہ تعالیٰ کے فضل سے اپنے اپنے اچھے کاموں میں لگے ہوئے ہیں۔ان کے بارے میں اہلِ خانہ لکھتے ہیں کہ جمعہ کی نماز کا خاص طور پر بڑا خیال رکھتے تھے اور یہی وجہ تھی کہ نماز اولاد میں جس نے محبت پیدا کی۔ایک دفعہ ایک باران کی اہلیہ بہت بیمار ہوگئیں اور انہیں ہسپتال داخل کروانا پڑا اور جمعہ کا وقت ہو گیا تو یہ سیدھے وہیں سے مسجد چلے گئے۔یہ نہ سوچا کہ واپس آؤں گا تو اہلیہ زندہ بھی ہوں گی کہ نہیں۔وہ کافی شدید بیار تھیں۔94