شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 91
میٹرک میں پڑھتے تھے کہ والدہ نے بازو میں پہنی ہوئی سونے کی چوڑی اتار کر ہاتھ میں دے دی کہ جا کر پڑھو۔مرے کالج سیالکوٹ سے بی۔اے کیا۔سپرنٹنڈنٹ جیل کی نوکری ماتی تھی لیکن نہیں کی بلکہ زمیندارہ کرتے رہے۔اسی سے بچوں کو تعلیم دلوائی۔شہادت کے وقت ان کی عمر 93 سال تھی اور موصی بھی تھے۔اب اس عمر میں جانا تو تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ رتبہ عطا فرمایا۔مسجد بیت النور میں ان کی شہادت ہوئی۔اہلِ خانہ بتاتے ہیں کہ ان کو بڑھاپے کی وجہ سے بھولنے کی عادت تھی جس کی وجہ سے تقریباً سات آٹھ جمعے چھوڑے۔اور 28 مئی کو جمعہ پر جانے کے لئے بہت ضد کر رہے تھے۔ان کی بہو بتاتی ہیں کہ ان کو کہا گیا کہ باہر موسم ٹھیک نہیں ہے، آندھی چل رہی ہے اس لئے آپ جمعہ پر نہ جائیں۔بچوں کی بھی یہی خواہش تھی کہ جمعہ پر نہ جائیں۔لیکن نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے تیار ہو کر گھر سے چلے گئے۔عموماً مسجد کے صحن میں کرسی پر بیٹھ کر نماز جمعہ ادا کرتے تھے۔ہمیشہ کی طرح سانحے کے روز بھی صحن میں کرسی پر بیٹھے ہوئے تھے اور حملے کے شروع میں ہی گولیاں لگنے سے شہادت ہو گئی۔بہت امن پسند تھے کبھی کسی سے زیادتی نہیں کی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب بہت شوق سے پڑھتے تھے اور گھر والوں کو بھی تلقین کرتے تھے۔ان کے صاحبزادے داؤ د احمد صاحب بتاتے ہیں کہ جب میں نے ایم اے اکنامکس پاس کیا والد صاحب سے ملازمت کی اجازت چاہی تو انہوں نے جواب دیا کہ میری نوکری کرلو۔میں نے کہا وہ کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا تم با قاعدہ دفتر کی طرح تیار ہو کر صبح نو بجے آنا، درمیان میں وقفہ بھی ہوگا اور شام پانچ بجے چھٹی ہو جایا کرے گی۔اور یہاں میز پر بیٹھ جاؤ اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتابیں پڑھا کرو اور اپنی نوکری سے جتنی تنخواہ ملنے کی تمہیں امید ہے اتنی تنخواہ تمہیں میں دے دیا کروں گا تو کتا بیں پڑھوانے کے بعد پھر اس نوکری سے فارغ کیا۔تو بچپن سے لے کر شادی تک بچوں کی اس طرح تربیت کی اذان کے وقت سب بچوں کے دروازے کھٹکھٹاتے ، اور جب تک انہیں اٹھا نہیں لیتے تھے نہیں چھوڑتے تھے۔اور پھر وضو کروا کے گھر میں باجماعت نماز ادا ہوتی تھی۔بچوں کی تربیت کے 91