شہدائے لاہور کا ذکر خیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 90 of 243

شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 90

مکرم نور الامین صاحب شہید مکرم نور الامین صاحب شہید ابن مکرم نذیر نیم صاحب۔شہید مرحوم راولپنڈی میں پیدا ہوئے۔وہیں سے میٹرک کیا۔اس کے بعد نیوی میں بطور فوٹو گرافر بھرتی ہو گئے۔ان کے دادا حضرت پیر فیض صاحب رضی اللہ عنہ آف اٹک صحابی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تھے۔جب کہ ان کے پڑنا نا مکرم بابو عبد الغفار صاحب تھے جو امیر ضلع حیدر آباد رہے اور خدا کی راہ میں شہید ہوئے ، مجلس خدام الاحمدیہ کے بڑے ذمے دار اور محنتی رکن تھے۔منتظم عمومی حلقہ ماڈل ٹاؤن خدمت سر انجام دے رہے تھے۔کلوز سرکٹ سسٹم کی مانیٹرنگ کرتے رہے جو مسجد میں لگایا تھا۔کچھ عرصے کے لئے کراچی چلے گئے شہادت کے وقت ان کی عمر 39 سال تھی اور مسجد دارالذکر میں ان کی شہادت ہوئی۔سانحہ کے دوران ان کا اپنے گھر والوں کو اور دوستوں کو فون آیا کہ میں ایسی جگہ پر ہوں کہ اگر چاہوں تو نکل سکتا ہوں، لیکن میری یہاں ڈیوٹی ہے۔یہ دارالذکر کے صحن میں پڑی ڈش انٹینا کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے۔وہیں گرینیڈ لگنے سے شہید ہوئے۔شہید مرحوم کی اہلیہ بتاتی ہیں کہ بے انتہا خوبیوں کے مالک تھے۔جمعہ کو جب دو بجے فون کیا تو انہوں نے کہا کہ خیریت سے ہوں۔میں نے کہا کہ آپ وہاں سے نکل آئیں تو انہوں نے کہا یہاں بہت لوگ پھنسے ہوئے ہیں میں ان کو چھوڑ کر نہیں آسکتا۔بچوں کی تربیت کے بارے میں فکر مند رہتے تھے خاص طور پر وقف نو بچوں کے بارے میں۔اور جماعتی ڈیوٹیوں میں ہمیشہ پیش پیش رہے۔مکرم چوہدری محمد مالک صاحب چدھڑ شہید مکرم چوہدری محمد مالک صاحب چدھڑ شہید ابن مکرم چوہدری فتح علی صاحب۔شہید مرحوم کے آباؤ اجداد گکھڑ منڈی کے رہنے والے تھے ، وہاں سے گوجرانوالہ اور پھر لاہور شفٹ ہو گئے۔ان کی پیدائش سے قبل ہی ان کے والد صاحب وفات پاگئے تھے۔90