شہدائے لاہور کا ذکر خیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 64 of 243

شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 64

مکرم ناصر محمود خان صاحب شہید مکرم ناصر محمودخان صاحب شہید ابن مکرم محمد عارف نسیم صاحب۔شہید مرحوم کے والد محمد عارف نسیم صاحب نے 1968ء میں بیعت کی تھی۔ضلع امرتسر کے رہنے والے تھے۔پارٹیشن کے بعد یہ رائے ونڈ آ گئے۔پھر لاہور میں سیٹ ہو گئے۔شہید مرحوم خدام الاحمدیہ کے بڑے فعال کارکن تھے۔پرنٹنگ پریس ایجنسی کا کام کرتے تھے۔ان کے والد بھی بطور سیکرٹری زراعت اور والدہ بطور جنرل سیکرٹری ضلع لاہور خدمت سر انجام دے رہے ہیں۔خود یہ بطور ناظم عمومی اور نائب قائد اول حلقہ فیصل ٹاؤن خدمات سرانجام دے رہے تھے۔ناظم عمومی بھی تھے اور نائب قائد اول بھی تھے۔نظام وصیت میں شامل تھے۔دارالذکر میں ان کی شہادت ہوئی ہے۔شہادت کے وقت ان کی عمر 39 سال تھی۔شہید مرحوم کے بھائی مکرم عامر مشہود صاحب بتاتے ہیں کہ دارالذکر میں جب دہشتگر دوں نے حملہ کیا تو میں ہال کے اندر تھا اور بھائی باہر سیڑھیوں کے پاس تھے۔دورانِ حملہ میری ان سے فون پہ بات ہوئی اور بھائی نے بتایا کہ میں محفوظ ہوں سیڑھیوں کے نیچے کافی لوگ موجود تھے۔دہشت گرد نے ان کی طرف گرینیڈ پھینکا تو بھائی نے گرینیڈ اٹھا کر واپس پھینکنا چاہا۔یہ وہی نوجوان ہیں جنہوں نے اپنے ہاتھ پر گرینیڈ لے لیا تا کہ دوسرے زخمی نہ ہوں یا ان کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔لیکن اسی دوران گرینیڈ ان کے ہاتھ میں پھٹ گیا اور وہیں ان کی شہادت ہو گئی۔دوسروں کو بچاتے ہوئے شہید ہوئے۔شہید مرحوم نے گھر میں سب سے پہلے وصیت کی تھی اور گھر کے سارے کام خود سنبھالتے تھے۔رابطہ اور تعلق بنانے میں بڑے ماہر تھے۔کہتے ہیں ان کی شہادت پر غیر از جماعت دوست بھی بہت زیادہ ملنے آئے۔بھائی نے بتایا کہ جب ہم نے کار خریدی تو عید وغیرہ پر جاتے ہوئے پہلے ان لوگوں کو مسجد پہنچاتے تھے جن کے پاس کوئی سواری نہ ہوتی تھی اور دوسرے چکر میں ہم سب گھر والوں کو مسجد لے کر جاتے تھے۔شہادت سے ایک ہفتہ قبل خود خواب دیکھا۔خواب میں مجھے دیکھا کہ میں 64