شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 63
مکرم ملک انصار الحق صاحب شہید مکرم ملک انصار الحق صاحب شہید ابن مکرم ملک انوار الحق صاحب۔یہ بھی قادیان کے ساتھ فیض اللہ گاؤں ہے وہاں کے رہنے والے ہیں۔اور پاکستانی آرمی کے ایک ڈپو میں سٹور کیپر تھے۔شہادت کے وقت ان کی عمر 63 برس تھی۔مسجد دارالذکر میں ان کی شہادت ہوئی۔ساڑھے آٹھ بجے یہ نیا سوٹ پہن کر کسی کام سے نکلے اور وہیں سے نماز جمعہ ادا کرنے کے لئے دارالذکر میں چلے گئے۔انہوں نے کبھی بھی نماز جمعہ نہیں چھوڑی تھی۔سامنے ہی کرسی پر بیٹھے تھے۔گرینیڈ پھٹنے سے زخمی ہو گئے اور اس طرح جسم میں مختلف جگہوں پر پانچ گولیاں لگیں۔زخمی حالت میں میوہسپتال لے گئے جہاں پہنچ کر شہید ہو گئے۔ان کی بہو بتاتی ہیں کہ میرے ماموں بھی تھے اور خسر بھی۔وہ شہادت کے قابل تھے۔دل کے صاف تھے ، عاجزی بہت زیادہ تھی۔کبھی کسی سے لڑائی نہیں چاہتے تھے، ہمیشہ صلح میں پہل کرنے والے تھے۔ان کی صرف معمولی تنخواہ تھی۔جو پنشن ملتی تھی اس سے لوگوں کا راشن وغیرہ لگایا ہوا تھا۔جماعت سے انتہائی طور پر وابستہ تھے اور خلافت سے بہت محبت کرتے تھے۔ماں باپ کی خدمت کرنے والے تھے۔اسی وجہ سے ملازمت کی مدت پوری ہونے سے قبل ہی ریٹائرمنٹ لے لی اور خدمت کے لئے آگئے۔ان کی اہلیہ بیان کرتی ہیں کہ عادت کے اتنے اچھے تھے کہ اگر اپنا اور اپنے بچوں کا قصور نہ بھی ہوتا تو رشتے داروں کے ساتھ صلح کے لئے بچوں سے بھی معافی منگواتے تھے۔خود بھی معافی مانگ لیتے تھے۔شہادت سے دو مہینے قبل اپنے خاندان کو بعض مسائل کے حوالے سے پانچ صفحات کا نصیحت آمیز خط لکھا اور اس میں اپنے بچوں کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ میں اپنے بچوں سے بھی معافی مانگتا ہوں کہ اس وجہ سے میں تم سے معافی منگواتا تھا اگر چہ مجھے پتہ بھی ہوتا تھا کہ تمہاری غلطی نہیں ہے۔شہادت کے بعد کچھ لوگ ملنے آئے تو کہتے ہیں کہ انہوں نے تو ہمارا راشن لگایا ہوا تھا۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند کرے اور ان کی اولا دکوان کی نیکیاں جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔63