شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 61
نے بتایا کہ میری ٹانگ میں گولی لگی ہے اور متعدد شہیدوں کی لاشیں میرے سامنے پڑی نظر آ رہی ہیں۔دعا کریں خدا تعالیٰ فضل فرمائے۔انہوں نے ایف ایس سی ربوہ سے کی تھی۔لاہور میں داخلہ ہوا۔جب آخری بار ربوہ سے لاہور گئے تو اپنے ساتھی خدام دوستوں سے باری باری گھر جا کر ملے اور سب سے کہا مجھے مل لیں میرا کیا پتہ کہ میں شہید ہو جاؤں۔شہید مرحوم پنج وقتہ نمازی تھے۔فرمانبردار تھے، سلجھے ہوئے تھے۔راستے میں آتے جاتے آنے والے ساتھیوں کو اپنے دوستوں کو مسجد میں لے کر جایا کرتے تھے۔کم گو اور ذہین نوجوان تھے۔اپنی تین بہنوں کے اکلوتے بھائی تھے۔شہادت کے ضمن میں شہید مرحوم کے بچپن کی سیکرٹری وقف نو نے بتایا کہ عزیزم ولید احمد کے بچپن کا ایک واقعہ ہے جب اس کی عمر گیارہ سال کی تھی تو ایک دن میں نے دورانِ کلاس سب وقف نو بچوں سے فرداً فرداً پوچھا کہ تم بڑے ہو کر کیا بنو گے؟ جب عزیزم ولید کی باری آئی تو کہنے لگا کہ میں بڑا ہو کر اپنے دادا جان کی طرح شہید بنوں گا۔شہید مرحوم کی اپنی تعلیمی ادارے میں مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ شہادت کے بعد تد فین والے دن اس کے اساتذہ اور طلباء نے ایک ہی دن میں تین دفعہ تعزیتی تقریب منعقد کی جس میں شامل ہونے والے اکثر غیر از جماعت طالب علم تھے۔شہید مرحوم کے استاد نے بذریعہ فون اطلاع دی کہ ہم ٹیچر اور ہمارے طالب علم تدفین میں شامل ہونے کے لئے ربوہ آنے کا پروگرام بنا چکے تھے کہ تمام طالب علم بلک بلک کر زار و قطار رونے لگے اور خدشہ پیدا ہوا کہ یہی حال رہا تو ربوہ جا کر ولید کا چہرہ دیکھ کر غم کی شدت سے بالکل بے حال نہ ہو جائیں اس لئے ہم نے مجبوراً یہ پروگرام ملتوی کر دیا اور کسی اور وقت آئیں گے۔اللہ تعالیٰ اس قربانی کو قبول فرماتے ہوئے ہزاروں لاکھوں ولید جماعت کو عطا فرمائے۔61