شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page v
عظیم الشان اور بصیرت افروز ذکر خیر جہاں ان شہداء کے لئے زبردست خراج تحسین ہے وہاں یہ پیچھے رہنے والوں کے دلوں میں اخلاص و وفا اور قربانی کی نئی شمعیں روشن کرنے والا ہے۔ان جانے والے ہیروں کو اللہ تعالیٰ نے ایسے چمکدار ستاروں کی صورت میں آسمان اسلام اور احمدیت پر سجا دیا جس نے نئی کہکشائیں ترتیب دے دی ہیں اور ان کہکشاؤں نے ہمارے لئے نئے راستے متعین کر دیئے ہیں۔(خطبہ جمعہ فرمود 4 جون 2010ء) شہدا ءلاہور کے اس ذکر خیر سے جماعت احمدیہ کی حقانیت اور عظمت و شان خلافت حقہ اسلامیہ احمد یہ بھی خوب نمایاں ہے۔یہ ذکر خیر للہی محبت ومودت کے اس عظیم الشان اور اٹوٹ تعلق کا بھی آئینہ دار ہے جو خلیفہ وقت اور جماعت کے درمیان پایا جاتا ہے۔اور اس سے حضرت مسیح موعود اللہ اور آپ کے مقدس خلفاء کی تربیت یافتہ جماعت کے مثالی نظم و ضبط ،صبر و استقامت ،عسر ویسر ہر حال میں راضی برضاء الہی ہونے ، اخلاق حسنہ پر مضبوطی سے قائم رہنے اور اعلیٰ دینی اقدار کی حفاظت جیسے بلند کردار کی بھی نمایاں طور پر عکاسی ہوتی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ : ” انشاء اللہ تعالیٰ ان قربانی کرنے والوں کی لاج پیچھے رہنے والا ہر احمدی رکھے گا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کی عظمت کو دنیا میں قائم کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے گا اور کبھی پیچھے نہیں ہٹے گا“۔(خطبہ جمعہ فرمودہ 11 جون 2010ء) اللہ تعالیٰ ان سب شہیدوں کے درجات بلند تر کرتا چلا جائے اور ہم بھی ہمیشہ استقامت کے ساتھ دین کی خاطر قربانیاں دیتے چلے جانے والوں میں سے ہوں“۔(خطبہ جمعہ فرمود 4 جون 2010ء )۔آمین۔خاکسار نصیر احمد قمر (ایڈیشنل وکیل الاشاعت۔لندن)