شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 6
سکے۔اور شیطان کے تمام منصوبوں کو ناکام و نا مراد کرنے میں نبی کی تائید کرو۔اس کا ہاتھ بٹاؤ اور نیک فطرت اور سعید لوگوں کے دلوں میں نبی کے پیغام اور اللہ تعالیٰ کی اس کے ساتھ تائیدات کے سلوک کی پہچان بھی پیدا کرو تا کہ وہ حق کو پہچانیں اور حق کو پہچان کر اس کی جماعت میں شامل ہو جائیں۔پھر ایسے لوگ اپنے اندر بھی نفخ روح کے نظارے دیکھیں گے۔خدا تعالیٰ کے سلوک کے نظارے دیکھیں گے۔اپنی دنیا و آخرت سنوارنے کا باعث بنتے ہوئے جنتوں کا وارث ٹھہریں گے۔نبی کے پیغام کو دنیا میں پھیلانے میں، فرشتے انسانوں کو بھی جو حکم دیتے ہیں کہ نبی کا پیغام دنیا میں پھیلانے کے لئے اس کے مددگار بن جاؤ تو سعید فطرت لوگوں میں یہ تحریک پیدا ہوتی ہے اور یہی وہ مقام ہے جب تمام فرشتے بھی نبی کی تائید میں فَسَجَدَ الْمَلَئِكَةُ كُلُّهُمْ أَجْمَعُوْنَ کا اعلان کرتے ہیں۔یعنی اس چیز کا نظارہ پیش کرتے ہیں کہ سب فرشتوں نے سجدہ کیا۔اور خارق عادت اور غیر معمولی برکات نبی کے کام میں پڑ رہی ہوتی ہیں۔اور فرشتہ صفت انسانوں کے ذریعے بھی اس سجدہ کے نظارے نظر آتے ہیں جو فرمانبرداری کا سجدہ ہے۔جو اطاعت کا سجدہ ہے۔جو اپنی تمام تر طاقتیں اور صلاحیتیں نبی کے کام کو آگے بڑھانے کا سجدہ ہے۔اور وہ نبی کے سلطان نصیر بن کر اس کے کام کو آگے بڑھانے والے ہوتے ہیں۔اس زمانے میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشقِ صادق کے ساتھ بھی اللہ تعالیٰ کا یہ سلوک ہے جسے اللہ تعالیٰ نے آدم کہہ کر مخاطب کیا ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ یا درکھو خدا کے فرستادہ کی تو ہین خدا کی توہین ہے۔تمہارا اختیار ہے چاہو تو مجھے گالیاں دو کیونکہ آسمانی سلطنت تمہارے نزدیک حقیر ہے۔پس آج بھی جو مقابلہ کر رہے ہیں وہ خدا تعالیٰ سے مقابلہ کر رہے ہیں۔حضرت مسیح موعود یا آپ کی جماعت سے مقابلہ نہیں ہے۔پھر ایک تفصیل بیان فرماتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ حقیقی خلافت میری ہے یعنی میں خلیفة اللہ ہوں اور پھر اپنے ایک الہام کا ذکر فرمایا کہ أَرَدْتُ أَنْ أَسْتَخْلِفَ فَخَلَقْتُ آدَم خَلِيفَةَ الله السُّلْطَانَ۔کہ میں نے چاہا کہ اپنا خلیفہ بناؤں تو آدم کو پیدا 6