شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 171
مکرم وسیم احمد صاحب شہید اگلا ذکر ہے مکرم وسیم احمد صاحب شہید ابن مکرم عبدالقدوس صاحب آف پون نگر کا۔شہید مرحوم کا تعلق حضرت میاں نظام دین صاحب رضی اللہ عنہ جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھ پر بیعت کی تھی اور حضرت بابو قاسم دین صاحب رضی اللہ عنہ صحابی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان سے ہے۔حضرت بابو قاسم دین صاحب رضی اللہ عنہ کافی لمبا عرصہ سیالکوٹ کے امیر مقامی اور امیر ضلع رہے ہیں۔یہ خاندان اسی محلے سے تعلق رکھتا ہے جس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوہ والسلام دعوی سے قبل دورانِ ملازمت قیام پذیر رہے۔اور دعویٰ کے بعد اسی جگہ پر آ کر قیام فرماتے تھے۔سیالکوٹ میں ایف ایس سی کے بعد یونیورسٹی آف پنجاب لاہور میں پلیس (Space) سائنس میں بی ایس سی میں ان کو سیلیکٹ کیا گیا۔پھر اسی یونیورسٹی سے ایم ایس سی کمپیوٹر سائنس میں کیا۔شہادت سے قبل سوفٹ وئیر کی ایک فرم میں بطور مینجر کام کر رہے تھے۔بطور ناظم اطفال مجلس علامہ اقبال ٹاؤن خدمت کی توفیق پارہے تھے۔بوقتِ شہادت ان کی عمر 38 سال تھی اور نظام وصیت میں شامل تھے۔مسجد دارالذکر میں جام شہادت نوش فرمایا۔شہید مرحوم ہمیشہ نماز جمعہ مسجد دارالذکر میں ادا کرتے تھے۔سانحہ کے روز بھی مال روڈ پر واقع اپنے دفتر سے نماز ادا کرنے کے لئے دارالذکر پہنچے عموماً مین ہال کی پہلی صف میں بیٹھتے تھے۔سانحہ کے روز بھی پہلی صف میں ہی بیٹھے اور دہشتگردوں کے آنے پر امیر صاحب کے حکم پر وہیں بیٹھے رہے۔جب باقی دوست ہال کے پچھلے گیٹ سے جان بچانے کے لئے باہر جا رہے تھے تو ان کو بھی کہا گیا لیکن انہوں نے کہا کہ پہلے باقی دوست چلے جائیں، پھر میں جاؤں گا۔اسی دوران دہشتگرد کی گولیوں سے شہید ہو گئے۔شہید مرحوم کی شہادت پر ان کے دفتر والوں نے ان کی یاد میں اپنے دفتر میں دو گھنٹے کا پروگرام بھی رکھا۔تمام سٹاف تعزیت کے لئے ان کے گھر بھی آیا اور بہت اچھے الفاظ میں شہید کو یاد کیا۔ان کی شہادت پر 171