شہدائے لاہور کا ذکر خیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 93 of 243

شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 93

اندھا دھند فائرنگ اور بعد میں گرینیڈ کے پھٹنے کی وجہ سے شہید ہو گئے۔ایک بیٹے کی شادی اور ملازمت کی وجہ سے فکر مند تھے۔اور اس دن بھی ، جمعہ والے دن بیٹے کا انٹرویو دلوایا۔سوال جواب اس سے پوچھے، کیسا ہوا ؟ اور خوش تھے کہ انشاء اللہ نوکری مل جائے گی۔اور اللہ کے فضل سے پھر بیٹے کو نوکری یکم جون سے مل بھی گئی۔بیوی بچوں کے حقوق کا بہت خیال رکھتے تھے۔سسرالی رشتوں اور دیگر رشتے داروں کا بہت خیال رکھتے تھے۔نرم طبیعت کے تھے،اطاعت گزار تھے۔خلافت سے عشق تھا۔بچوں کی ہر قسم کی ضرورت کا خیال رکھتے تھے۔ان کے بیٹے نے بتایا کہ محلے کے غیر احمدی یا غیر از جماعت دکاندار نے سانحہ کے بعد اتوار کو خواب میں دیکھا کہ شیخ صاحب کہہ رہے ہیں کہ پتہ نہیں میں یہاں کیسے پہنچا ہوں۔لیکن بہت خوش ہوں اور مزے میں ہوں۔مکرم سید لئیق احمد صاحب شہید مکرم سید عتیق احد صاحب شہید ابن مکرم سید حی الدین احمد صاحب۔شہید کے والد محترم کا تعلق رانچی ضلع بہار بھارت سے تھا۔علیگڑھ یونیورسٹی کے سٹوڈنٹ تھے، یونیورسٹی میں ایک احمدی سٹوڈنٹ سے ملاقات ہوئی جس نے ان کے والد کو کہا کہ حضرت عیسی فوت ہو گئے ہیں اور امام مہدی علیہ السلام آچکے ہیں۔تو شہید کے والد نے محی الدین صاحب نے غصے میں اس احمدی سٹوڈنٹ کا سر پھاڑ دیا۔بعد میں شرمندگی بھی ہوئی ، پھر کچھ کتابیں پڑھیں تو مولوی ثناء اللہ امرتسری سے رابطہ کیا۔اس نے گالیوں سے بھری ہوئی کتا بیں ان کو بھیج دیں۔یہ دیکھ کر ان کو غصہ آیا اور کہا کہ میں نے ان سے مسائل پوچھے ہیں اور یہ گالیاں سکھا رہے ہیں۔چنانچہ احمدیت کی طرف مائل ہوئے اور بیعت کر کے احمدیت میں شامل ہو گئے۔یہ ملاں کی عادت جو ہمیشہ سے ہے آج تک بھی یہی قائم ہے۔اب پوچھنے پر یہ گالیوں کا لٹریچر نہیں بھیجتے بلکہ ٹی وی پر بیٹھ کے جماعت کے خلاف جو منہ میں آتا ہے بکتے چلے جاتے ہیں۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف بڑی دریدہ دہنی کرتے ہیں۔93