شری کرشن جی اور کلکی اوتار — Page 44
مسلمانوں کا انتظار کرنا خود مسلمانوں میں بھی ایک امام مہدی کے ظہور کا انتظار ہے۔جیسا کہ ابوالخیر نواب نور الحسن خان صاحب نے ۱۳۰۱ ہجری میں لکھا : امام مہدی کا ظہور تیرہویں صدی پر ہونا چاہئے تھا۔مگر یہ صدی پوری گزرگئی تو مہدی نہ آئے۔اب چودھویں صدی ہمارے سر پر آئی ہے۔اس صدی سے اس کتاب کے لکھنے تک چھ ماہ گزرچکے ہیں۔شاید اللہ تعالیٰ اپنا فضل و عدل و رحم و کرم فرمائے۔چار چھ سال کے اندر مہدی ظاہر ہو جائیں۔“ (اقتراب الساعۃ صفحه ۲۲۱) محترم نواب صدیق حسن خان صاحب والی کبھو پال نے امام مہدی کے انتظار کا ذکر اس یقین کے ساتھ فرمایا ہے کہ گو یا مسیح و مہدی جلد آنے والے ہیں۔فرمایا : این بنده حرص تمام دارد که اگر زمانہ حضرت روح اللہ سلام اللہ علیہ را 66 دریا بم اول کسے کہ ابلاغ سلام نبوی کند من باشم “ نج الکرامه صفحه ۴۴۹، مطبوعہ ۱۲۹۱ هجری) یعنی کہ یہ بندہ بڑی خواہش رکھتا ہے کہ اگر زمانہ حضرت رُوح اللہ (عیسی علیہ السلام کا پاؤں تو پہلا شخص جو انہیں جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کا سلام پہنچائے وہ میں ہوں۔“ عیسائیوں کا انتظار ایک مشہور عیسائی مسٹر جے ایچ میور لکھتے ہیں : وو و ہمیں سچے نجات دہندہ کی ضرورت ہے ہاں ایسے نجات دہندہ کی جو