شری کرشن جی اور کلکی اوتار

by Other Authors

Page 15 of 60

شری کرشن جی اور کلکی اوتار — Page 15

غور کرنا چاہئے۔اس جگہ بعض حوالے پیش کئے جاتے ہیں سب سے پہلے میں حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ کا ایک حوالہ پیش کرتا ہوں۔یہ ایک ایسی کتاب کا حوالہ ہے جو مختلف موضوعات پر لکھی گئی۔مختلف لوگوں کے منظوم کلاموں کا ایک مجموعہ ہے۔جس میں عربی فارسی کی تحریرات موجود ہیں اور مثنوی مولانا رومی بھی لکھی ہوئی ہے۔یہ مجموعہ ایک کشکول کی حیثیت رکھتا ہے۔اس میں ایک مقام پر نقل مقولات حضرت مولاعلی علیہ السلام کا عنوان دے کر گیارہ اشعار کی ایک نظم نقل کی ہے جس میں معلومہ اقوام عالم اور ان کے انبیاء و ہادیوں کے ناموں کا ذکر موجود ہے۔اس میں ہی حضرت کرشن کا نام ہندوستان کے تعلق سے صاف طور پر موجود ہے۔اور ان اشعار میں آپ فرماتے ہیں کہ جہاں جہاں ہادیان مذاہب مختلف ناموں کے ساتھ آئے وہ سب میرے نام ہیں۔چنانچہ اس میں لکھا ہے۔ابوالحسن میخواندانم بوالعشر از مادرم۔پس منم این نام من اینست گفتم مرتز اہند یا نم کشن خوانندگر جیانم اتقیا۔در فرنگم شبطیا و درختا با بولیا۔(ماخوذ کلکی اوتار صفحه ۷۰۶) یعنی مجھے ابوالحسن کہتے ہیں میر امادری نام ابوالعشر ہے پس میں ہی ہوں اور یہ میرا ہی نام ہے خاص طور پر تجھے بتا تا ہوں۔ہندو جسے کرشن کہتے ہیں اہل گر جا اسے متقی کہتے ہیں اور انگریز اسے خبطیا کہتے ہیں اور ختالہ ملک والے اسے بابولیا کہتے ہیں۔اسی طرح چھٹی صدی ہجری کے اوائل کی لکھی ہوئی ایک کتاب فردوس الا نبیاء ہے جس کو دیلمی نے لکھا ہے دیلمی محدث بھی ہے اور مؤرخ بھی۔ان کی وفات ۵۰۷ ہجری