شری کرشن جی اور کلکی اوتار — Page 47
اُٹھنے لگیں اور لوگوں نے اپنے اپنے خیالات کے مطابق اندازے پیش کرنے شروع کئے کہ وہ آنے والا اوتار اتنے عرصہ میں ضرور ظاہر ہو جائے گا۔اسی بات کا اظہار کرتے ہوئے لاہور کے ایک مشہور اخبار ٹریبیون نے اپنی اشاعت مورخہ ۸ جولائی ۱۸۹۹ء میں ایک نجومی کا مضمون شائع کیا جس میں وہ لکھتا ہے کہ : دوو ۱۹۰۰ ء سے ایک نئے دور کی ابتداء ہوتی ہے۔۱۸۰۰ سے ۱۹۰۱؛ تک ایک بڑے دور کا خاتمہ ہوتا ہے۔جس کے ختم پر آفتاب ایک نئے برج میں داخل ہوتا ہے۔یہ واقعہ قریباً (۲۱۶۰) سال میں ایک دفعہ ہوتا ہے اور اس کا نظام شمسی پر ہمیشہ گہرا اثر پڑتا ہے۔ایسے موقعہ پر ستارے ایک جا جمع ہوتے ہیں یعنی اجرام فلکی ( ایک راشی میں جمع ہوتے ہیں) اور اس طرح ان کا جمع ہونا زمین پر بڑا اثر ڈالتا ہے۔صحیح علم تاریخ کی رو سے جب پچھلی دفعہ زمین ایک نئے برج میں داخل ہوئی تھی تو مسیح پیدا ہوئے تھے۔حقیقت میں سنہ عیسوی ہمارے موجودہ حساب سے (۱۶۰) سال بعد شروع ہوا۔یعنی جس کو ہم (۱۶۰) عیسوی کہتے ہیں وہ اصل میں سنہ عیسوی کا پہلا سال تھا۔ہندوؤں کے فن تاریخ کے لحاظ سے جب آفتاب مسیح کی پیدائش سے پہلے نئے برج میں داخل ہوا تھا تو اس وقت کرشن پیدا ہوئے تھے۔“ علم حقائق کے کچھ محققین کا اس پر اصرار ہے کہ ۱۹۰۰ ء میں کلمتہ اللہ کا ایک نیا ظہور اور زمین پر خدا کا ایک نیا اوتار ہوگا۔جو انسانیت کے لئے وہ کچھ کرے گا جو مسیح نے اپنے زمانہ میں کیا۔محققین بتلاتے ہیں کہ ہر ۲۱۶۰ سال بعد ایک نیا بدھ یا مسیح پیدا ہوتا ہے جو دنیا کو اعلیٰ زندگی کے لئے بیدار کرتا ہے اور لوگوں کو وہ اعلی علم دیتا ہے جو صدیوں تک صرف چند لوگوں