شری کرشن جی اور کلکی اوتار

by Other Authors

Page 46 of 60

شری کرشن جی اور کلکی اوتار — Page 46

دیکھیں گے۔اور وہ تمام دھرموں کی اُن باتوں کو جو کہ غلطی سے دھرم کا جزو بن گئی ہیں دُور کر کے دھرم کے پوتر چہرہ کو پیش کرے گا اور اس کو کوئی پرایا خیال نہیں کرے گا۔(رسالہ ستیه یگ الہ آباد مارچ ۱۹۴۱ ، صفحہ ۳) اسی طرح رسالہ ستیہ ینگ میں ہی ایک جگہ لکھا ہے کہ : وو " یہ زمانہ جو ہماری اُمیدوں کے مطابق ایک سنہری زمانہ ہوگا۔جس میں خدا کی مرضی کے مطابق دنیا چلے گی۔جس کے لئے خدا کی طرف سے کوئی آدمی ضرور آئے گا جو دنیا کو دکھوں سے نکال کر خدا کے دروازہ پر اس کی مخلوق کو لے آئے گا۔تمام مذاہب والے اس کو ایک نظر سے دیکھیں گے اور علیحدہ علیحدہ ناموں سے پکاریں گے۔جیسے اوتار، مسیح،مہدی، پیر، گرو، وغیرہ۔یہ بھی ممکن ہے کہ وہ ان اختلافات کو دور کرے جو کہ مرور زمانہ کی وجہ سے مذہبوں کے اندر پیدا ہو گئے ہیں۔حالانکہ مذہب کے ساتھ ان کا کوئی تعلق نہیں۔دھرم کے روشن چہرا کولوگوں کے سامنے پیش کرے اور اس طرح تمام ان بڑے عقائد کو کہ لوگوں نے بے وقوفی سے مذہب کا جزو قرار دیا ہے، دُور کر کے ایک سیدھا راستہ دکھائے۔“ ( رساله ستیه یگ الہ آباد مارچ ۱۹۴۱) او پر بیان کردہ نظریات صرف ہندوؤں کے ہی نہیں بلکہ مسلمانوں اور عیسائیوں کے بھی اسی طرح کے خیالات ہیں کہ خدا کی طرف سے آنے والا ایک ہی ہوگا۔اور وہ سب مذاہب اور تمام اقوام کی اصلاح کرے گا اور ہر قوم والا اس کو اپنا خیال کرے گا۔نیز وہ تمام مذاہب میں پائے جانے والے غلط عقائد کو دور کر کے ان کو صحیح عقیدہ پر قائم کرے گا۔جب وہ زمانہ آگیا جس میں اس کے آنے کی اُمید تھی تو سب کی نظریں آسمان کی طرف ۴۶