شری کرشن جی اور کلکی اوتار

by Other Authors

Page 21 of 60

شری کرشن جی اور کلکی اوتار — Page 21

وو سلام تجھ پر اے غریب گوالن کی گود ٹھنڈی کرنے والے۔سلام تجھ پر اے گمناموں کے نام کو چار چاند لگانے والے۔اے وہ جو ایک مفلس دودھ والی کی آغوش میں پھولوں کی سیج سے زیادہ آرام میں پاؤں پھیلائے سوتا ہے۔تجھ پر ہزاروں سلام (کرشن بیتی صفحه ۲۲) مولوی محمد اجمل خان صاحب ایم اے اپنی کتاب ” نغمہ خداوندی“ میں مولوی عبد الباری صاحب مرحوم کی ایک روایت درج کرتے ہوئے لکھتے ہیں : " حضرت مولانا عبد الباری رحمتہ اللہ علیہ نے بھی اکثر فرمایا ہے کہ شری کرشن جی کے جو حالات ہیں ان کو دیکھتے ہوئے معلوم ہوتا ہے کہ ممکن ہے کہ وہ ہندوستان کے نبی ہوں۔اس لئے کہ نص صریح لِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ آیت کریمہ کا نظریہ بتاتا ہے کہ ہر ملک و قوم میں ایک نبی ضرور بھیجا گیا ہے اور ہندوستان کا اس نظریہ سے مستفی ہونا بعید از قیاس ہے۔غالبا یہی وجہ ہے کہ اکثر بزرگان دین نے ایسے مقامات پر خصوصیت سے عبادت اور چلہ کشی کی ہے جہاں ہندوؤں کے مقدس مقامات ہیں۔“ ( نغمہ خداوندی صفحہ ۲۰) مولوی وحید الزماں خان صاحب شاہجہانپوری تفسیر وحیدی میں آیت قرآنی وان من أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرٌ کی تفسیر میں فرماتے ہیں : اس آیت سے یہ نکلتا ہے کہ ہر ملک اور ہر قوم میں اللہ تعالیٰ کے پیغمبر گزرچکے ہیں اور بہت سے پیغمبروں کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں نہیں فرمایا ہے۔اس لئے مسلمانوں کو کسی قوم کے پیغمبروں کا انکار نہیں کرنا چاہئے۔اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ وہ پیغمبر تھے یا نہ تھے۔آمَنْتُ بِاللهِ