شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 66 of 203

شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں — Page 66

ایک حدیث میں آتا ہے۔نعمان بن بشیر روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے اپنے منبر پر کھڑے ہو کر فرمایا : ”جو شخص تھوڑے پر شکر نہیں کرتا وہ زیادہ پر بھی شکر نہیں کرتا اور جولوگوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا وہ اللہ تعالیٰ کے احسانات کا بھی شکریہ ادا نہیں کر پاتا۔اللہ تعالیٰ کی نعماء کا ذکر خیر کرنا بھی شکر ہے۔اور اللہ تعالیٰ کی نعماء کا ذکر خیر نہ کرنا ناشکری ہے۔(مسند احمد بن حنبل جلد ۲ صفحه ۲۷۸ مطبوعه بيروت) صلى الله حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ علی نے ان کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا۔اے معاذ! اللہ کی قسم ! یقیناً میں تجھ سے محبت رکھتا ہوں، پھر آپ نے فرمایا اے معاذ! میں تجھے وصیت کرتا ہوں کہ تو ہر نماز کے بعد یہ دعا کرنا نہ بھولنا۔اَللَّهُمَّ أَعِنِّى عَلى ذِكْرَكَ وَ شُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ۔اے اللہ تعالیٰ ! تو مجھے توفیق عطاء کر کہ میں تیرا ذکر، تیرا شکر اور اچھے انداز میں تیری عبادت کر سکوں۔(سنن ابی داؤد کتاب الوتر۔باب في الاستغفار) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ” اگر انسان غور اور فکر سے دیکھے تو اس کو معلوم ہوگا کہ واقعی طور پر تمام محامد اور صفات کا مستحق اللہ تعالیٰ ہی ہے۔اور کوئی انسان یا مخلوق واقعی اور حقیقی طور پر حمد وثنا کا مستحق نہیں ہے۔اگر انسان بغیر کسی قسم کی غرض کی ملونی کے دیکھے تو اس پر بدیہی طور پر کھل جاوے گا کہ کوئی شخص جو مستحق محمد قرار پاتا ہے وہ یا تو اس لئے مستحق ہو سکتا ہے کہ کسی ایسے زمانہ میں جبکہ کوئی وجود نہ تھا اور نہ کسی وجود کی خبر تھی وہ اس کا پیدا کر نیوالا ہو۔66