شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں — Page 51
باقی اپنی تمام عام دعاؤں میں اپنی زبان میں ہی الفاظ متضرعانہ ادا کر لیا کرو تا کہ تمہارے دلوں پر اس عجز و نیاز کا کچھ اثر ہو۔(کشتی نوح۔روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۲۸۔۲۹ ) پھر آپ نے فرمایا: ” نماز ایسی شئے ہے کہ اس کے ذریعہ سے آسمان انسان پر جھک پڑتا ہے۔نماز کا حق ادا کرنے والا یہ خیال کرتا ہے کہ میں مر گیا اور اس کی روح گداز ہو کر خدا کے آستانہ پر گر پڑی ہے۔جس گھر میں اس قسم کی نماز ہوگی وہ گھر کبھی تباہ نہ ہوگا۔حدیث شریف میں ہے کہ اگر نوح کے وقت میں نماز ہوتی تو وہ قوم کبھی تباہ نہ ہوتی۔حج بھی انسان کے لئے مشروط ہے، روزہ بھی مشروط ہے ، زکوۃ بھی مشروط ہے مگر نماز مشروہ نہیں۔سب ایک سال میں ایک ایک دفعہ ہیں مگر اس کا حکم ہر روز پانچ دفعہ ادا کرنے کا ہے۔اس لئے جب تک پوری پوری نماز نہ ہوگی تو وہ برکات بھی نہ ہوں گی جو اس سے حاصل ہوتی ہیں اور نہ اس بیعت کا کچھ فائدہ حاصل ہوگا“۔(ملفوظات جلد سوم صفحه ۲۲۷ جدید ایڈیشن) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ” نماز ہر ایک مسلمان پر فرض ہے حدیث شریف میں آیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے پاس ایک قوم اسلام لائی اور عرض کی کہ یا رسول اللہ ! ہمیں نماز معاف فرما دی جائے کیونکہ ہم کاروباری آدمی ہیں۔مویشی وغیرہ کے سبب کپڑوں کا کوئی اعتماد نہیں ہوتا اور نہ ہمیں فرصت ہوتی ہے۔تو آپ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ دیکھو جب نماز نہیں ، تو ہے ہی کیا؟ وہ دین ہی نہیں جس میں نماز نہیں۔نماز کیا ہے؟ یہی کہ اپنے عجز و نیاز اور کمزوریوں کو خدا کے سامنے پیش کرنا اور اسی سے اپنی حاجت روائی چاہنا۔کبھی اس کی عظمت اور اس کے 51