شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 28 of 203

شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں — Page 28

دیتا ہوں)۔فرمایا: جب تم گفتگو کرو تو سچ بولو۔جب تم وعدہ کرو تو وفا کرو۔جب تمہارے پاس امانت رکھی جائے تو عند الطلب دے دیا کرو۔( ٹال مٹول نہیں ہونی چاہئے )۔اپنے فروج کی حفاظت کرو، غض بصر سے کام لو۔اور اپنے ہاتھوں کو ظلم سے رو کے رکھو۔(مسند احمد بن حنبل جلد ۵ صفحه ۳۲۳ مطبوعه بيروت) حضرت ابوسعید خدری روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا : رستوں پر مجلسیں لگانے سے بچو۔انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہمیں رستوں میں مجلس لگانے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پھر رستے کا حق ادا کرو۔انہوں نے عرض کیا پھر اس کا کیا حق ہے؟ آپ نے فرمایا: ہر آنے جانے والے کے سلام کا جواب دو، غض بصر کرو، راستہ دریافت کرنے والے کی راہنمائی کرو، معروف باتوں کا حکم دو اور نا پسندیدہ باتوں سے روکو۔(مسند احمد بن حنبل جلد ۳ صفحه ۱۶۔مطبوعه بيروت) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : ” قرآن شریف نے جو کہ انسان کی فطرت کے تقاضوں اور کمزوریوں کو مدنظر رکھ کر حسب حال تعلیم دیتا ہے کیا عمدہ مسلک اختیار کیا ہے۔قُلْ لِلْمُؤْمِنِيْنَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْ ذَلِكَ أَزْكَى لَهُمْ۔(۱) کہ تو ایمان والوں کو کہہ دے کہ وہ اپنی نگاہوں کو نیچا رکھیں اور اپنے سوراخوں کی حفاظت کریں۔یہ وہ عمل ہے جس سے ان کے نفوس کا تزکیہ ہو گا۔فروج سے مراد صرف شرمگاہ ہی نہیں بلکہ ہر ایک (۱) النور آیت ۳۱ 28