شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 190 of 203

شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں — Page 190

اور ان کو شکر کرنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ نے ان کو یوں ہی نہیں چھوڑا بلکہ ان کی ایمانی قوتوں کو یقین کے درجہ تک بڑھانے کے واسطے اپنی قدرت کے صدہا نشان دکھائے ہیں۔کیا تم میں سے کوئی ایسا بھی ہے جو کہہ سکے کہ میں نے کوئی نشان نہیں دیکھا۔میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ ایک بھی ایسا نہیں جس کو ہماری صحبت میں رہنے کا موقع ملا ہو اور اس نے خدا تعالیٰ کا تازہ بتازہ نشان اپنی آنکھ سے نہ دیکھا ہو۔ہماری جماعت کے لئے اسی بات کی ضرورت ہے کہ ان کا ایمان بڑھے، خدا تعالیٰ پر سچا یقین اور معرفت پیدا ہو، نیک اعمال میں سنتی اور کسل نہ ہو کیونکہ اگر ستی ہو تو پھر وضو کرنا بھی ایک مصیبت معلوم ہوتا ہے چہ جائیکہ وہ تہجد پڑھے۔اگر اعمال صالحہ کی قوت پیدا نہ ہو اور مسابقت علی الخیرات کے لئے جوش نہ ہو تو پھر ہمارے ساتھ تعلق پیدا کرنا بے فائدہ ہے۔(ملفوظات جلد دوم - صفحه ۷۱۱۷۱۰، جدید ایڈیشن ) اس شرط بیعت میں جو دسویں شرط چل رہی ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے سے اس قدر تعلق جس کی مثال کسی دنیاوی رشتے میں نہ ملتی ہو پر اس قدر زور دیا ہے۔جس کی وجہ بھی صرف اور صرف ہماری ہمدردی ہے۔ہمیں تباہ ہونے سے بچانے کے لئے آپ نے فرمایا ہے کیونکہ سچا اسلام صرف اور صرف آپ کو ماننے سے مل سکتا ہے اور اپنے آپ کو ڈوبنے سے بچانا ہے تو لازماً ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کشتی میں سوار ہونا ہوگا۔آپ فرماتے ہیں : ” اب میری طرف دوڑو کہ وقت ہے کہ جو شخص اس وقت میری طرف دوڑتا ہے میں اس کو اس سے تشبیہ دیتا ہوں کہ جو عین طوفان کے 190)