شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 10 of 203

شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں — Page 10

شرک ہے اور گویا خدا کی ہستی سے انکار۔رعایت اسباب اس حد تک کرنی چاہئے کہ شرک لازم نہ آئے۔ہمارا مذہب یہ ہے کہ ہم رعایت اسباب سے منع نہیں کرتے مگر اس پر بھروسہ کرنے سے منع کرتے ہیں۔دست در کار دل بایار والی بات ہونی چاہئے۔“ آپ فرماتے ہیں: ” دیکھو تم لوگوں نے جو بیعت کی ہے اور اس وقت اقرار کیا ہے اس کا زبان سے کہہ دینا تو آسان ہے لیکن نباہنا مشکل ہے۔کیونکہ شیطان اسی کوشش میں لگا رہتا ہے کہ انسان کو دین سے لا پروا کر دے۔دنیا اور اس کے فوائد کو تو وہ آسان دکھاتا ہے اور دین کو بہت دور۔اس طرح دل سخت ہو جاتا ہے اور پچھلا حال پہلے سے بدتر ہو جاتا ہے۔اگر خدا کو راضی کرنا ہے تو اس گناہ سے بچنے کے اقرار کو نبھانے کے لئے ہمت اور کوشش سے تیار رہو۔“ فرمایا: فتنہ کی کوئی بات نہ کرو۔شر نہ پھیلاؤ۔گالی پر صبر کرو۔کسی کا مقابلہ نہ کرو۔جو مقابلہ کرے اس سے بھی سلوک اور نیکی کے ساتھ پیش آؤ۔شیریں بیانی کا محمدہ نمونہ دکھلاؤ۔بچے دل سے ہر ایک حکم کی اطاعت کرو کہ خدا راضی ہو جائے۔اور دشمن بھی جان لے کہ اب بیعت کر کے بعض وہ نہیں رہا جو پہلے تھا۔مقدمات میں کچی گواہی دو۔اس سلسلہ میں داخل ہونے والے کو چاہئے کہ پورے دل ، پوری ہمت اور ساری جان سے راستی کا پابند ہو جائے۔“ فرمایا: (ذكر حبيب صفحه ۴۳۶ تا ۴۳۹) مارچ ۱۹۰۳ء میں۔عید کا دن تھا ، چند احباب بیٹھے ہوئے تھے۔آپ نے و, دیکھو جس قدر آپ لوگوں نے اس وقت بیعت کی ہے ( لگتا ہے بیعت کے 10