شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 159 of 203

شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں — Page 159

تفریق نہیں ہے۔جیسا کہ سعدی نے کہا ہے۔بنی آدم اعضائے یک دیگر اند۔یا درکھو ہمدردی کا دائرہ میرے نزدیک بہت وسیع ہے۔کسی قوم اور فرد کو الگ نہ کرے۔میں آج کل کے جاہلوں کی طرح یہ نہیں کہنا چاہتا کہ تم اپنی ہمدردی کو صرف مسلمانوں سے ہی مخصوص کرو۔نہیں۔میں کہتا ہوں کہ تم خدا تعالیٰ کی ساری مخلوق سے ہمدردی کرو خواہ وہ کوئی ہو ہندو ہو یا مسلمان یا کوئی اور۔میں کبھی ایسے لوگوں کی باتیں پسند نہیں کرتا جو ہمدردی کو صرف اپنی ہی قوم سے مخصوص کرنا چاہتے ہیں“۔(ملفوظات جلد چهارم جدید ایڈیشن صفحه ۲۱۶۔۲۱۷) فرماتے ہیں: ” غرض نوع انسان پر شفقت اور اس سے ہمدردی کرنا بہت بڑی عبادت ہے اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کیلئے یہ ایک زبر دست ذریعہ ہے۔مگر میں دیکھتا ہوں کہ اس پہلو میں بڑی کمزوری ظاہر کی جاتی ہے۔دوسروں کو حقیر سمجھا جاتا ہے۔ان پر ٹھیٹھے کیسے جاتے ہیں ان کی خبر گیری کرنا اور کسی مصیبت اور مشکل میں مدد دینا تو بڑی بات ہے۔جو لوگ غرباء کے ساتھ اچھے سلوک سے پیش نہیں آتے بلکہ ان کو حقیر سمجھتے ہیں مجھے ڈر ہے کہ وہ خود اس مصیبت میں مبتلا نہ ہو جاویں۔اللہ تعالیٰ نے جن پر فضل کیا ہے اس کی شکر گزاری یہی ہے کہ اس کی مخلوق کے ساتھ احسان اور سلوک کریں اور اس خدا داد فضل پر تکبر نہ کریں اور وحشیوں کی طرح غرباء کو کچل نہ ڈالیں۔“ (ملفوظات جلد چہارم صفحه ۴۳۸۔۴۳۹ جدید ایڈیشن) آپ فرماتے ہیں: ” قرآن شریف نے جس قدر والدین اور اولاد اور دیگر ا قارب اور مساکین کے حقوق بیان کئے ہیں۔میں نہیں خیال کرتا کہ وہ حقوق کسی اور کتاب میں لکھے گئے ہوں۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَاعْبُدُوا اللَّـ 159