شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 142 of 203

شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں — Page 142

یعنی جو شخص اپنے وجود کو خدا کے آگے رکھ دے اور اپنی زندگی اس کی راہوں میں وقف کرے اور نیکی کرنے میں سرگرم ہو سو وہ سر چشمہ قرب الہی سے اپنا اجر پائے گا۔اور اُن لوگوں پر نہ کچھ خوف ہے نہ کچھ غم۔یعنی جو شخص اپنے تمام قولی کو خدا کی راہ میں لگادے اور خالص خدا کے لئے اس کا قول اور فعل اور حرکت اور سکون اور تمام زندگی ہو جائے اور حقیقی نیکی بجالانے میں سرگرم رہے سو اس کو خدا اپنے پاس سے اجر دے گا اور خوف اور خون سے نجات بخشے گا۔“ وو (سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب۔روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحه ۳۴۴) ایک حدیث میں آتا ہے۔معاویہ بن حیدہ قشیری رضی اللہ عنہ اپنے اسلام لانے کا قصہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچا۔میں نے پوچھا آپ کو ہمارے رب نے کیا پیغام دے کر بھیجا ہے اور کیا دین لائے ہیں؟“۔آپ نے فرمایا: ” خدا نے مجھے دین اسلام دے کر بھیجا ہے۔میں نے پوچھا دین اسلام کیا ہے۔حضور ﷺ نے جواب دیا: ”اسلام یہ ہے کہ تم اپنی پوری ذات کو اللہ کے حوالے کر دو اور دوسرے معبودوں سے دست کش ہو جاؤ۔اور نماز قائم کرو اور زکوۃ دو۔“ پھر ایک روایت یہ ہے۔حضرت سفیان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ میں نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ! مجھے اسلام کی کوئی ایسی بات بتائیے جس کے بعد کسی اور سے پوچھنے کی ضرورت نہ رہے یعنی میری پوری تسلی ہو جائے۔حضور ﷺ نے جواب دیا: تم یہ کہو کہ میں اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا، پھر اس پر پکے ہو جاؤ الله (الاستيعاب) 142