شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں — Page 130
کی طرف بھی توجہ دینی چاہئے۔اور ان سے بچو۔بعض لوگ دو چار دن نماز پڑھ کے سمجھتے ہیں کہ ہم بڑے نیک ہو گئے ہیں۔چہرے پر عجیب قسم کی سنجیدگی کے ساتھ رعونت بھی طاری ہو جاتی ہے۔اور آپ نے بعض دفعہ بعض جبہ پوشوں کو دیکھا ہوگا کہ ہاتھ میں تسبیح لے کر مسجدوں سے نکل رہے ہوتے ہیں۔ان کی گردن پر ہی فخر اور غرور نظر آرہا ہوتا ہے۔شکر ہے، اللہ تعالیٰ کا بہت بہت شکر ہے کہ جماعت احمد یہ ایسے جبہ پوشوں سے پاک ہے۔پھر حج کر کے آتے ہیں اتنا پروپیگنڈہ اس کا ہورہا ہوتا ہے کہ انتہا نہیں۔ایسے لوگوں کے دکھاوے کے روزے ہوتے ہیں اور دکھاوے کا حج ہوتا ہے۔صرف بڑائی جتانے کے لئے یہ سب ہوتا ہے کہ لوگ کہیں کہ فلا بڑا نیک ہے۔بڑے روزے رکھتا ہے ، حاجی ہے، بہت نیک ہے۔یہ سب دکھاوے تکبر کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں یا دکھاوے کی وجہ سے تکبر پیدا ہو جاتا ہے۔پھر آپ نے فرمایا کہ بعض لوگ اپنی ذات پات کی وجہ سے تکبر کر رہے ہوتے ہیں کہ ہماری ذات بہت اونچی ہے۔فلاں تو کمی کمین ہے، وہ ہمارا کہاں مقابلہ کر سکتا ہے۔تو حضرت اقدس نے فرمایا کہ تمبر کی کئی قسمیں ہیں جو تمہیں خدا تعالیٰ کی معرفت سے دور لے جاتی ہیں، اس کے قرب سے دور لے جاتی ہیں اور پھر آہستہ آہستہ انسان شیطان کی جھولی میں گر جاتا ہے۔پھر آپ فرماتے ہیں: ” پس میرے نزدیک پاک ہونے کا یہ عمدہ طریق ہے اور ممکن نہیں کہ اس سے بہتر کوئی اور طریق مل سکے کہ انسان کسی قسم کا تکبر اور فخر نہ کرے۔نہ علمی نہ خاندانی نہ مالی۔جب خدا تعالیٰ کسی کو آنکھ عطا کرتا ہے تو وہ دیکھ لیتا ہے کہ ہر ایک روشنی جوان 130