شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں — Page 118
خدا تعالیٰ کا فضل اسکی دستگیری کرے گا اور وہ اس مقام پر ہوگا کہ خدا اس سے راضی ہوگا اور وہ اپنے رب سے راضی ہوگا۔اور اگر ایسا نہیں کیا بلکہ لا پرواہی کے ساتھ اپنی زندگی بسر کی ہے تو پھر اس کا انجام خطر ناک ہے۔اسلئے بیعت کرتے وقت یہ فیصلہ کر لینا چاہئے کہ بیعت کی کیا غرض ہے اور اس سے کیا فائدہ حاصل ہوگا۔اگر محض دنیا کی خاطر ہے تو بے فائدہ ہے لیکن اگر دین کیلئے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے ہے تو ایسی بیعت مبارک اور اپنی اصل غرض اور مقصد کو ساتھ رکھنے والی ہے جس سے ان فوائد اور منافع کی پوری امید کی جاتی ہے جو سچی بیعت سے حاصل ہوتے ہیں۔(ملفوظات جلد ششم صفحه 142) اللہ تعالیٰ ہمیں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو اس زمانے کا امام دل کی گہرائیوں سے قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔جس درد اور توجہ سے آپ نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی حکومت کو دنیا پر قائم کرنے کیلئے اپنی جماعت تیار کرنا چاہتے ہیں اور جس درد سے نصیحت فرمائی ہے اللہ تعالیٰ ہمیں ویسا ہی بنادے اور جن شرائط پر آپ نے ہم سے عہد بیعت لیا ہے انکی ہم مکمل پابندی کرنے والے ہوں۔اور ان پر عمل کرنے والے ہوں اور ہمیشہ انکو اپنے سامنے رکھنے والے ہوں۔ہمارا کوئی عمل کوئی فعل ہمیں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم کے خلاف چلتے ہوئے ملزم ٹھہرانے والا نہ ہو اور ہم ہمیشہ اپنا محاسبہ کرنے والے ہوں۔اللہ تعالیٰ ہماری مدد فرمائے۔آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے دعا کے بعد اب یہ جلسہ 118