شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 114 of 203

شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں — Page 114

پھر فرماتا ہے ﴿يَسْتَلُوْنَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُوْلِ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَاَصْلِحُوْا ذَاتَ بَيْنِكُمْ وَاَطِيْعُوا اللَّهَ وَرَسُوْلَهُ إِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ ﴾ (الانفال آیت (۲) وہ تجھ سے اموال غنیمت سے متعلق سوال کرتے ہیں۔تو کہہ دے کہ اموال غنیمت اللہ اور رسول کے ہیں۔پس اللہ کا تقوی اختیار کرو اپنے درمیان اصلاح کرو اللہ کی اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اگر تم مومن ہو۔یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میرے احکامات کو صحیح طور پر مانو ، ان پر عمل کرو۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان احکامات کی جو تشریح کی ہے اس کے مطابق عمل کرو۔تمہارے جو امراء مقرر ہیں ، جو نظام مقرر ہے اسکی پوری اطاعت کرو تو کہا جا سکتا ہے کہ تم نے بیعت کرنے کا حق ادا کر دیا۔اس بارے میں چند احادیث بھی پیش کرتا ہوں۔حضرت عبادہ بن صامت روایت کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت اس امر پر کی کہ ہم پسند کی صورت میں اور ناپسند کی ا صورت میں بھی ان کا ارشا د سنیں گے اور اطاعت کریں گے۔(بخاری کكتاب الاحكام باب كيف يبايع الامام الناس) عبد الرحمن بن عمر وسلمی اور حجر بن حجر بیان کرتے ہیں کہ وہ عرباض بن ساریہ کے پاس آئے پھر عرباض نے فرمایا کہ ایک دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی پھر آپ نے بہت موثر فصیح و بلیغ انداز میں ہمیں وعظ فرمایا 114