شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں — Page 102
ہے کہ دیکھ لیا ہمارے شریکوں نے بھائی بہن یا بیٹا بیٹی کو شادی پر جو کچھ دیا تھا ہم نے دیکھو کس طرح اس سے بڑھ کر دیا ہے۔صرف مقابلہ اور نمود و نمائش ہے۔آج کل آپ میں سے بہت سے ایسے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص فضل سے یہاں آنے کے بعد بہت نوازا ہے۔بہت کشائش عطا فرمائی ہے۔یہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت میں شامل ہونے کی برکت ہے اور ان قربانیوں کا نتیجہ ہے جو آپ کے بزرگوں نے دیں اور ان کی دعاؤں کی برکت ہے۔تو بعض ایسے ہیں جو بجائے اس کے کہ ان فضلوں اور برکتوں کا اظہار اس کے حضور جھکتے ہوئے اس کی راہ میں خرچ کرتے ہوئے کریں اس کی بجائے شادی بیا ہوں میں نام و نمود کی خاطر ، خود نمائی کی خاطر ان رسموں میں پڑ کر یہ اظہار کر رہے ہوتے ہیں۔پھر شادیوں پر ، ولیموں پر کھانوں کا ضیاع ہو رہا ہوتا ہے۔اور دکھاوے کی خاطر کئی کئی ڈشیں بنائی جارہی ہوتی ہیں تو جو غریب یا کم استطاعت والے لوگ ہوتے ہیں وہ بھی دیکھا دیکھی جہیز وغیرہ کی نمائش کی خاطر مقروض ہو رہے ہوتے ہیں پھر بعض دفعہ بچیوں والے لڑکے والوں کی طرف سے جہیز کے مطالبہ کی وجہ سے کہ لوگ کیا کہیں گے کہ بہو جہیز بھی نہیں لائی ، مقروض ہوتے ہیں۔تو لڑکے والوں کو بھی کچھ خوف خدا کرنا چاہئے۔صرف رسموں کی وجہ سے ، اپنا ناک اونچا ر کھنے کی وجہ سے غریبوں کو مشکلات میں ، قرضوں میں نہ گرفتار کریں اور دعوی یہ ہے کہ ہم احمدی ہیں اور بیعت کی دس شرائط پر پوری طرح عمل کریں گے۔تو یہ مختصراً میں نے ایک شادی کی رسم پر عرض کیا ہے۔اگر اس کو مزید کھولوں تو اس شادی کی رسم پر ہی 102