شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 58 of 203

شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں — Page 58

فرمایا ہے جو مسلمان بھی مجھ پر درود بھیجتا ہے تو وہ جب تک مجھ پر درود بھیجتا رہتا ہے اس وقت تک فرشتے اس پر درود بھیجتے رہتے ہیں۔اب چاہے تو اس میں کمی کرے اور چاہے تو اسے زیادہ کرے۔حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دعا آسمان اور زمین کے درمیان ٹھہر جاتی ہے اور جب تک تو اپنے نبی ﷺ پر درود نہ بھیجے اس میں سے کوئی حصہ بھی ( خدا تعالیٰ کے حضور پیش ہونے کے لئے ) او پر نہیں جاتا۔(ترمذى، كتاب الصلوة - باب ماجاء في فضل الصلوة على النبي علي الله) حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن لوگوں میں سے سب سے زیادہ میرے نزدیک وہ شخص ہوگا جو اُن میں سے مجھ پر سب سے زیادہ درود بھیجنے والا ہوگا۔(ترمذى ، كتاب الصلوة باب ماجاء في فضل الصلوة على النبى عليها الله)۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام درود کی برکات کا ذاتی تجربہ ان الفاظ میں بیان فرماتے ہیں۔فرمایا کہ ایک مرتبہ ایسا اتفاق ہوا کہ درود شریف کے پڑھنے میں یعنی آنحضرت ﷺ پر درود بھیجنے میں ایک زمانہ تک مجھے بہت استدراک رہا کیونکہ میرا یقین تھا کہ خدا تعالیٰ کی راہیں نہایت دقیق راہیں ہیں وہ بجز، وسیلہ نبی کریم کے مل نہیں سکتیں۔جیسا کہ خدا بھی فرماتا ہے ﴿وَابْتَغُوْا إِلَيْهِ الْوَسِيْلَة تب ایک مدت کے بعد کشفی حالت میں میں نے دیکھا کہ دو سقے یعنی ماشکی آئے ایک اندرونی راستے سے اور ایک بیرونی راہ سے میرے گھر میں داخل ہوئے اور ان کے کاندھوں پر 58