شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں — Page 53
ناشناسا ہے۔تو ایسا شعلہ نور اس پر نازل کر کہ تیرا انس اور شوق اس میں پیدا ہو جائے۔تو ایسا فضل کر کہ میں نابینا نہ اٹھوں اور اندھوں میں نہ جاملوں۔جب اس قسم کی دعا مانگے گا اور اس پر دوام اختیار کرے گا تو وہ دیکھے گا کہ ایک وقت اس پر ایسا آئے گا کہ اس بے ذوقی کی نماز میں ایک چیز آسمان سے اس پر گرے گی جو رقت پیدا کر دے گی“۔(ملفوظات جلد دوم صفحه ۶۱۶ جدید ایڈیشن) نماز تہجد کا التزام کریں پھر اس تیسری شرط میں یہ ہے کہ نماز تہجد پڑھے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ﴿وَ مِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّـدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا ﴾ (سورة بنی اسرائیل آیت ۸۰) ـ سورج کے ڈھلنے سے شروع ہو کر رات کے چھا جانے تک نماز کو قائم کر اور فجر کی تلاوت کو اہمیت دے۔یقیناً فجر کو قرآن پڑھنا ایسا ہے کہ اُس کی گواہی دی جاتی ہے۔اور رات کے ایک حصہ میں بھی اس (قرآن) کے ساتھ تہجد پڑھا کر۔یہ تیرے لئے نفل کے طور پر ہو گا۔قریب ہے کہ تیرا رب تجھے مقام محمود پر فائز کر دے۔حضرت بلال بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: تمہیں نماز تہجد کا التزام کرنا چاہئے کیونکہ یہ گزشتہ صالحین کا طریقہ رہا ہے اور قرب الہی کا ذریعہ ہے۔یہ عادت گناہوں سے روکتی ہے، برائیوں کو ختم کرتی ہے اور جسمانی بیماریوں سے بچاتی ہے۔(ترمذى ابواب الدعوات) 53