شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں — Page 40
یارسول اللہ ! ضرور بتا ئیں۔اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب وہ کوئی اچھا منظر دیکھتے ہیں تو ذکر الہی میں مصروف ہو جاتے ہیں۔پھر فرمایا: کیا میں تم کو شریرترین افراد سے نہ آگاہ کروں؟ شریر ترین لوگ وہ ہیں جو چغل خوری کی غرض سے چلتے پھرتے ہیں۔محبت کرنے والوں کے درمیان بگاڑ پیدا کر دیتے ہیں۔اور فرمانبردار لوگوں کے بارہ میں ان کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ گناہ میں مبتلا ہو جائیں۔(مسند احمد بن حنبل جلد ۲ صفحه ۴۵۹ مطبوعه بیروت) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: تمہیں چاہئے کہ وہ لوگ جو محض اس وجہ سے تمہیں چھوڑتے اور تم سے الگ ہوتے ہیں کہ تم نے خدا تعالیٰ کے قائم کردہ سلسلہ میں شمولیت اختیار کر لی ہے ان سے دنگه یا فساد مت کرو بلکہ ان کے لئے غائبانہ دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ ان کو بھی وہ بصیرت اور معرفت عطا کرے جو اس نے اپنے فضل سے تمہیں دی ہے۔تم اپنے پاک نمونہ اور عمدہ چال چلن سے ثابت کر دکھاؤ کہ تم نے اچھی راہ اختیار کی ہے۔دیکھو میں اس امر کے لئے مامور ہوں کہ تمہیں بار بار ہدایت کروں کہ ہر قسم کے فساد اور ہنگامہ کی جگہوں سے بچتے رہو اور گالیاں سن کر بھی صبر کرو۔بدی کا جواب نیکی سے دو اور کوئی فساد کرنے پر آمادہ ہو تو بہتر ہے کہ تم ایسی جگہ سے کھسک جاؤ اور نرمی سے جواب دو۔میں یہ سنتا ہوں کہ فلاں شخص اس جماعت کا ہو کر کسی سے لڑا ہے۔اس طریق کو میں ہرگز پسند نہیں کرتا اور خدا تعالیٰ بھی نہیں چاہتا کہ وہ جماعت جو دنیا میں ایک نمونہ ٹھہرے گی وہ ایسی راہ اختیار کرے جو تقویٰ کی راہ نہیں ہے۔بلکہ میں تمہیں یہ بھی بتا دیتا ہوں 40