شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 171 of 203

شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں — Page 171

میں پڑ کر خود بھی نظام سے ہٹ گئے ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی خراب کر رہے ہوتے ہیں اور ماحول میں بعض قباحتیں بھی پیدا کر رہے ہوتے ہیں۔ان پر واضح ہو کہ خود بخود معروف اور غیر معروف فیصلوں کی تعریف میں نہ پڑیں۔حضرت خلیفہ اسیح الاول اس کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ایک اور غلطی ہے وہ طاعت در معروف کے سمجھنے میں ہے کہ جن کاموں کو ہم معروف نہیں سمجھتے اس میں طاعت نہ کریں گے۔یہ لفظ نبی کریم کے لئے بھی آیا ہے وَلَا يَعْصِيْنَكَ فِي مَعْرُوفٍ (1) اب کیا ایسے لوگوں نے حضرت محمد رسول اللہ علیہ کے عیوب کی بھی کوئی فہرست بنالی ہے۔اسی طرح حضرت صاحب نے بھی شرائط بیعت میں طاعت در معروف لکھا ہے۔اس میں ایک سر ہے۔میں تم میں سے کسی پر ہرگز بدظن نہیں۔میں نے اس لئے ان باتوں کو کھولا تا تم میں سے کسی کو اندر ہی اندر دھو کہ نہ لگ جائے۔(خطبات نور صفحه 421۔420) حضرت مسیح موعود علیہ السلام يَأْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ کی تفسیر کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:۔یہ نبی ان باتوں کے لئے حکم دیتا ہے جو خلاف عقل نہیں ہیں۔اور ان باتوں سے منع کرتا ہے جن سے عقل بھی منع کرتی ہے اور پاک چیزوں کو حلال کرتا ہے اور نا پاک کو حرام گھیرا تا ہے۔اور قوموں کے سر پر سے وہ بوجھ اتارتا ہے جس کے نیچے وہ دبی ہوئی تھیں۔اور ان گردنوں کے طوقوں سے وہ رہائی بخشتا ہے جن کی وجہ سے گردنیں (1) الممتحنه آیت ۱۳۔171)