شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں — Page 6
اللہ تعالیٰ کی طرف سے بیعت لینے کا حکم آخر چھ سات سال بعد ۱۸۸۸ء کی پہلی سہ ماہی یعنی شروع کے تین مہینوں میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو بیعت لینے کا ارشاد ہوا۔یہ ربانی حکم جن الفاظ میں پہنچا وہ یہ تھے۔” إِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ وَاصْنَعِ الْفُلْكَ بِأَعْيُنِنَا وَوَحْيِنَا الَّذِيْنَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُوْنَ اللَّهَ يَدُ اللَّهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ “ (اشتہار یکم دسمبر ۱۸۸۸ء صفحه ۲) یعنی جب تو عزم کرلے تو اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کر اور ہمارے سامنے اور ہماری وحی کے تحت کشتی تیار کر۔جو لوگ تیرے ہاتھ پر بیعت کریں گے۔اللہ تعالیٰ کا ہاتھ ان کے ہاتھ پر ہو گا۔حضور کی جو طبیعت تھی وہ ایسی تھی کہ اس بات سے کراہت کرتی تھی کہ ہر قسم کے رطب و یابس لوگ اس سلسلہ بیعت میں داخل ہو جائیں۔اور دل یہ چاہتا تھا کہ اس مبارک سلسلہ میں وہی مبارک لوگ داخل ہوں جن کی فطرت میں وفاداری کا مادہ ہے اور کچے نہیں ہیں۔اس لئے آپ کو ایک ایسی تقریب کا انتظار رہا کہ جو مخلصوں اور منافقوں میں امتیاز کر دکھلائے۔سو اللہ جل شانہ نے اپنی کمال حکمت و رحمت سے وہ تقریب اسی سال نومبر ۱۸۸۸ء میں بشیر اول کی وفات سے پیدا کر دی۔(حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے یہ بیٹے تھے ) ملک میں آپ کے خلاف ایک شور مخالفت بر پا ہوا اور خام خیال بدظن ہو کر الگ ہو گئے لہذا آپ کی نگاہ میں یہی موقعہ اس بابرکت سلسلے کی ابتداء کے لئے موزوں قرار پایا۔اور آپ نے یکم دسمبر ۱۸۸۸ء کو ایک اشتہار