شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں — Page 117
راہوں سے اسے تلاش کرتا ہے“۔(ملفوظات جلد پھر آپ فرماتے ہیں : سوم صفحه 102۔103۔جدید ایڈیشن) قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ (1) اللہ تعالیٰ کے خوش کرنے کا ایک یہی طریق ہے کہ آنحضرت ﷺ کی سچی فرمانبرداری کی جاوے۔دیکھا جاتا ہے کہ لوگ طرح طرح کی رسومات میں گرفتار ہیں۔کوئی مرجاتا ہے تو قسم قسم کی بدعات اور رسومات کی جاتی ہیں حالانکہ چاہئے کہ مردہ کے حق میں دعا کریں۔رسومات کی بجا آوری میں آنحضرت ﷺ کی صرف مخالفت ہی نہیں ہے بلکہ ان کی ہتک بھی کی جاتی ہے اور وہ اس طرح سے کہ گویا آنحضرت ﷺ کے کلام کو کافی نہیں سمجھا جاتا۔اگر کافی خیال کرتے تو اپنی طرف سے رسومات کے گھڑنے کی کیوں ضرورت پڑتی “ (ملفوظات جلد سوم صفحه 316۔جدید ایڈیشن) پھر آپ فرماتے ہیں: وو یہ چند روزہ دنیا تو ہر حال میں گذر جاوے گی خواہ تنگی میں گذرے خواہ فراخی میں مگر آخرت کا معاملہ بڑا سخت معاملہ ہے وہ ہمیشہ کا مقام ہے اور اس کا انقطاع نہیں ہے۔پس اگر اس مقام میں وہ اسی حالت میں گیا کہ خدا تعالیٰ سے اسنے صفائی کر لی تھی اور اللہ تعالیٰ کا خوف اس کے دل پر مستولی تھا اور وہ معصیت سے تو بہ کر کے ہر ایک گناہ سے جس کو اللہ تعالیٰ نے گناہ کر کے پکارا ہے بچتا رہا تو (۱) آل عمران آیت ۳۲ 117