شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں — Page 72
حضور فرماتے ہیں۔” میرے ہاتھ پر تو بہ کرنا ایک موت کو چاہتا ہے تا کہ تم نئی زندگی میں ایک اور پیدائش حاصل کرو۔بیعت اگر دل سے نہیں تو کوئی نتیجہ اس کا نہیں۔میری بیعت سے خدا دل کا اقرار چاہتا ہے پس جو کچے دل سے مجھے قبول کرتا اور اپنے گناہوں سے چھی تو بہ کرتا ہے غفور و رحیم خدا اُس کے گناہوں کو ضرور بخش دیتا ہے اور وہ ایسا ہو جاتا ہے جیسے ماں کے پیٹ سے نکلا ہے تب فرشتے اُس کی حفاظت کرتے ہیں (ملفوظات جلد سوم صفحه 262) چوتھی شرط بیعت یہ کہ عام خلق اللہ کو عموما اور مسلمانوں کو خصوصاً اپنے نفسانی جوشوں سے کسی نوع کی ناجائز تکلیف نہیں دے گا۔نہ زبان سے نہ ہاتھ سے نہ کسی اور طرح سے“ جیسا کہ اس شرط سے واضح ہے کہ غصہ میں آکر مغلوب الغضب ہو کر اپنی اناء کا مسئلہ بنا کر اپنی جھوٹی غیرت کا اظہار کرتے ہوئے نہ ہی اپنے ہاتھ سے نہ ہی زبان سے کسی کو دُکھ نہیں دینا۔یہ تو ہے ہی ایک ضروری شرط کہ کسی مسلمان کو دُکھ 72