شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں — Page 67
یا اس وجہ سے کہ ایسے زمانہ میں کہ کوئی وجود نہ تھا اور نہ معلوم تھا کہ وجود اور بقاء وجود اور حفظ صحت اور قیام زندگی کے لئے کیا کیا اسباب ضروری ہیں اس نے وہ سب سامان مہیا کئے ہوں۔یا ایسے زمانہ میں کہ اس پر بہت سی مصیبتیں آسکتی تھیں اس نے رحم کیا ہو اور اس کو محفوظ رکھا ہو۔اور یا اس وجہ سے مستحق تعریف ہوسکتا ہے کہ محنت کرنے والے کی محنت کو ضائع نہ کرے اور محنت کرنے والوں کے حقوق پورے طور پر ادا کرے۔اگر چہ بظاہر اجرت کرنے والے کے حقوق کا دینا معاوضہ ہے لیکن ایسا شخص بھی محسن ہو سکتا ہے جو پورے طور پر حقوق ادا کرے۔یہ صفات اعلیٰ درجہ کی ہیں جو کسی کو مستحق حمد وثنا بنا سکتی ہیں۔اب غور کر کے دیکھ لو کہ حقیقی طور پر ان سب محامد کا مستحق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے جو کامل طور پر ان صفات سے متصف ہے اور کسی میں یہ صفات نہیں ہیں۔غرض او لاً بالذات اکمل اور اعلیٰ طور سے خدا تعالیٰ ہی مستحق تعریف ہے۔اس کے مقابلہ میں کسی دوسرے کا ذاتی طور پر کوئی بھی استحقاق نہیں۔اگر کسی دوسرے کو استحقاق تعریف کا ہے تو صرف طفیلی طور پر ہے۔یہ بھی خدا تعالیٰ کا رحم ہے کہ باوجود یکہ وہ وحدہ لاشریک ہے۔مگر اس نے طفیلی طور پر بعض کو اپنے محامد میں شریک کر لیا ہے۔روئیداد جلسه دعا روحانی خزائن جلد۱۵ صفحه ۵۹۸ تا ۶۰۲) جماعت کو عمومی نصیحت کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں:" اگر تم چاہتے ہو کہ آسمان پر فرشتے بھی تمہاری تعریف کریں تو تم ماریں کھاؤ اور خوش رہو اور گالیاں سنو اور شکر کرو۔اور ناکامیاں دیکھو اور پیوند مت توڑو تم خدا کی آخری جماعت ہو۔سو وہ عمل نیک دکھلا ؤ جو اپنے کمال میں انتہائی درجہ پر ہو۔ہر ایک جو تم میں سست ہو جائیگا وہ ایک 67