شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 52 of 203

شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں — Page 52

احکام کی بجا آوری کے واسطے دست بستہ کھڑا ہونا اور کبھی کمال مذلت اور فروتنی سے اس کے آگے سجدے میں گر جانا۔اس سے اپنی حاجات کا مانگنا یہی نماز ہے۔ایک سائل کی طرح کبھی اس مسئول کی تعریف کرنا کہ تو ایسا ہے، تو ایسا ہے۔اس کی عظمت اور جلال کا اظہار کر کے اس کی رحمت کو جنبش دلانا پھر اس سے مانگنا۔پس جس دین میں یہ نہیں ، وہ دین ہی کیا ہے۔انسان ہر وقت محتاج ہے اس سے اس کی رضا کی راہیں مانگتا ر ہے اور اس کے فضل کا اس سے خواستگار ہو کیونکہ اسی کی دی ہوئی توفیق سے کچھ کیا جاسکتا ہے۔اے خدا! ہم کو تو فیق دے کہ ہم تیرے ہو جائیں اور تیری رضا پر کار بند ہوکر تجھے راضی کرلیں۔خدا کی محبت، اسی کا خوف ، اسی کی یاد میں دل لگا رہنے کا نام نماز ہے اور یہی دین ہے۔پھر جو شخص نماز ہی سے فراغت حاصل کرنی چاہتا ہے اس نے حیوانوں سے بڑھ کر کیا کیا ؟ وہی کھانا پینا اور حیوانوں کی طرح سورہنا۔یہ تو دین ہرگز نہیں۔یہ سیرت کفار ہے بلکہ جو دم غافل وہ دم کا فر والی بات بالکل راست اور صحیح ہے۔(تفسیر حضرت مسیح موعود جلد ۳ صفحه ۲۱۱-۲۱۲۔مطبوعه ربوهـ طبع جدید) نماز میں ذوق کس طرح حاصل ہو۔اس بارہ میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”اے اللہ تو مجھے دیکھتا ہے کہ میں کیسا اندھا اور نابینا ہوں اور میں اس وقت بالکل مردہ حالت میں ہوں۔میں جانتا ہوں کہ تھوڑی دیر کے بعد مجھے آواز آئے گی تو میں تیری طرف آ جاؤں گا۔اس وقت مجھے کوئی روک نہ سکے گا لیکن میرا دل اندھا اور 52