شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 48 of 203

شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں — Page 48

اور عورتوں دونوں کے لئے۔اور ان بچوں کے لئے بھی جو دس سال کی عمر کو پہنچ چکے ہیں کہ نماز وقت پر ادا کرو۔مردوں کے لئے یہ حکم ہے کہ نماز باجماعت کی ادائیگی کا اہتمام کرو۔مسجدوں میں جاؤ ، ان کو آباد کرو، اس کے فضل تلاش کرو۔پنج وقتہ نماز کے بارہ میں کوئی چھوٹ نہیں۔اور سفر میں بھی کچھ رعایت تو ہے یا بیماری میں بھی رعایت ہے۔یا جیسے یہ ہے کہ جمع کر لو ، قصر کر لو۔اور اگر بیماری میں مسجد نہ جانے کی چھوٹ ہے تو ان باتوں سے اندازہ ہو جانا چاہئے کہ نماز با جماعت کی کتنی اہمیت ہے۔اس کی اہمیت کے بارہ میں اب میں مزید کچھ اقتباسات پڑھتا ہوں لیکن یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ہر بیعت کنندہ کو اپنا جائزہ لینا چاہئے کہ ہم اپنے آپ کو بیچنے کا عہد کر رہے ہیں لیکن کیا اس واضع قرآنی حکم کی پابندی بھی کر رہے ہیں۔ہر احمد ہی اپنے نفس کے لئے خود مذکر ہے، خود اپنا جائزہ لیں ، خود دیکھیں۔اگر ہم خود ہی اپنے آپ کو ، اپنے نفس کو ٹولنے لگیں تو ایک عظیم انقلاب بر پا ہوسکتا ہے۔قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَاَقِيْمُوا الصَّلوةَ وَاتُوْا الزَّكَوةَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ ﴾ (النور آیت ۵۷ )۔اور نماز کو قائم کرو اور زکوۃ ادا کرو اور رسول کی اطاعت کرو تا کہ تم پر رحم کیا جائے۔پھر سورۃ طہ آیت ۱۵ میں ہے۔انَّنِی أَنَا اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدْنِي وَأَقِمِ الصَّلوةَ لِذِكْرِى ﴾۔یقینا میں ہی اللہ ہوں۔میرے سوا کوئی معبود نہیں۔پس میری عبادت کرو اور میرے ذکر کے لئے نماز کو قائم کرو۔اور اس طرح بے شمار دفعہ قرآن مجید میں نماز کے بارہ میں احکامات آئے ہیں۔48