شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں — Page 45
کے فرو نہیں ہوسکتا۔اسی وجہ سے حضرت یوسف کو کہنا پڑا وَمَا أُبَرِّئُ نَفْسِي إِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ إِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّی (1) یعنی میں اپنے نفس کو بری نہیں کرتا۔نفس نہایت درجہ بدی کا حکم دینے والا ہے اور اس کے حملہ سے مخلصی غیر ممکن ہے مگر یہ کہ خود خدا تعالیٰ رحم فرما دے۔اس آیت میں جیسا کہ فقرہ إِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّی ہے۔طوفان نوح کے ذکر کے وقت بھی اسی کے مشابہ الفاظ ہیں کیونکہ وہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لاَ عَاصِمَ الْيَوْمَ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ إِلَّا مَنْ رَّحِمَ (۲) پس یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ طوفان شہوات نفسانیہ اپنی عظمت اور ہیبت میں نوح کے طوفان سے مشابہ ہے۔“ (براہین احمدیه حصه پنجم روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۲۰۵-۲۰۶) خلاصہ کلام یہ کہ فرمایا ہے کہ شہوات تم پر ہمیشہ غلبہ پانے کی کوشش کریں گی۔لیکن تم ان سے ہمیشہ بچو، اللہ تعالیٰ سے رحم ما نگتے ہوئے ان سے بچو۔آج کل کے زمانے میں تو اس کے بہت سے اور راستے بھی کھل گئے ہیں اس لئے پہلے سے بڑھ کر دعائیں کرنے کی ، اللہ کی طرف جھکنے کی اور اس کا رحم مانگنے کی ضرورت ہے۔اَلَا لِلَّهِ الدِّيْنُ الْخَالِصُ وَالَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهِ أَوْلِيَاءَ مَا نَعْبُدُهُمْ إِلَّا لِيُقَرِّبُوْنَا إِلَى اللهِ زُلْفَى إِنَّ اللَّهَ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ فِي مَا هُمْ فِيْهِ يَخْتَلِفُوْنَ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِى مَنْ هُوَ كَاذِبٌ كَفَّارٌ (الزمرآيت (۴) خبردار! خالص دین ہی اللہ کے شایانِ شان ہے اور وہ لوگ جنہوں نے اُس کے سوا دوست اپنا لئے ہیں ( کہتے ہیں کہ ) ہم اس مقصد کے سوا اُن کی عبادت نہیں کرتے کہ (۱) یوسف آیت ۵۴ (۲) هود آیت ۴۴ 45