شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 41 of 203

شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں — Page 41

کہ اللہ تعالیٰ یہاں تک اس امر کی تائید کرتا ہے کہ اگر کوئی شخص اس جماعت میں ہوکر صبر اور برداشت سے کام نہیں لیتا تو وہ یادر کھے کہ وہ اس جماعت میں داخل نہیں ہے۔نہایت کار اشتعال اور جوش کی یہ وجہ ہو سکتی ہے کہ مجھے گندی گالیاں دی جاتی ہیں تو اس معاملہ کو خدا کے سپر د کر دو۔تم اس کا فیصلہ نہیں کر سکتے۔میرا معاملہ خدا پر چھوڑ دو۔تم ان گالیوں کو سن کر بھی صبر اور برداشت سے کام لو۔(ملفوظات جلد چهارم صفحه ۱۵۷ جدید ایڈیشن) بغاوت کے طریقوں سے بچو پھر اسی شرط دوئم میں اس بات کا بھی عہد ہے کہ بغاوت کے طریقوں سے بچتا رہے گا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: وو " وَقَاتِلُوْهُمْ حَتَّى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَيَكُوْنَ الدِّيْنُ لِلَّهِ ﴾ (1) یعنی اس حد تک ان کا مقابلہ کرو کہ ان کی بغاوت دور ہو جاوے اور دین کی روکیں اٹھ جائیں اور حکومت اللہ کے دین کی ہو جائے۔اور پھر فرمایا قُلْ قِتَالٌ فِيْهِ كَبِيْرٌ وَصَةٌ عَنْ سَبِيْلِ اللَّهِ وَكُفْرٌ بِهِ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَإِخْرَاجُ أَهْلِهِ مِنْهُ أَكْبَرُ عِنْدَ اللهِ وَالْفِتْنَةُ أَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ وَلَا يَزَالُوْنَ يُقَاتِلُوْنَكُمْ حَتَّى يَرُدُّوْكُمْ عَنْ دِيْنِكُمْ إِنِ اسْتَطَاعُوا (۲) یعنی شہر حرام میں قتل تو گناہ ہے لیکن خدا تعالیٰ کی راہ سے روکنا اور کفر اختیار کرنا اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کو مسجد حرام سے خارج کرنا یہ بہت بڑا گناہ ہے اور بغاوت کو پھیلانا یعنی امن کا خلل انداز ہو نا قتل سے بڑھ کر ہے۔(۱) البقرة آيت ۱۹۴ (جنگ مقدس - روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۲۵۵) (۲) البقرة آیت ۲۱۸ 41