شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں — Page 35
ﷺ نے فرمایا کہ تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟ ہم نے عرض کی جس کے پاس روپیہ ہو، نہ سامان۔آنحضور ﷺ نے فرمایا کہ میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ، زکوۃ وغیرہ اعمال لے کر آئے گا لیکن اس نے کسی کو گالی دی ہوگی ،کسی پر تہمت لگائی ہوگی کسی کا مال کھایا ہوگا اور کسی کا ناحق خون بہایا ہوگایا کسی کو مارا ہوگا۔پس ان مظلوموں کو اس کی نیکیاں دے دی جائیں گی یہاں تک کہ اگر ان کے حقوق ادا ہونے سے پہلے اس کی نیکیاں ختم ہو گئیں تو ان کے گناہ اس کے ذمہ ڈال دئے جائیں گے۔اور اس طرح جنت کی بجائے اسے دوزخ میں ڈال دیا جائے گا۔یہی شخص در اصل مفلس ہے۔(مسلم، كتاب البر والصلة باب تحريم الظلم) اب سوچیں ،غور کریں ، ہم میں سے ہر ایک کو سوچنا چاہئے۔جو بھی ایسی حرکات کے مرتکب ہو رہے ہوں ان کے لئے خوف کا مقام ہے۔اللہ کرے کہ ہم میں سے کوئی بھی ایسی مفلسی کی حالت میں اللہ تعالیٰ کے حضور کبھی پیش نہ ہو۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ” میری تمام جماعت جو اس جگہ حاضر ہیں یا اپنے مقامات میں بود و باش رکھتے ہیں اس وصیت کو تو جہ سے سنیں کہ وہ جو اس سلسلہ میں داخل ہو کر میرے ساتھ تعلق ارادت اور مریدی کا رکھتے ہیں، اس سے غرض یہ ہے کہ تا وہ نیک چلنی اور نیک بختی اور تقوی کے اعلی درجہ تک پہنچ جائیں اور کوئی فساد اور شرارت اور بد چلنی ان کے نزدیک نہ آ سکے۔وہ پنجوقت نماز جماعت کے پابند ہوں۔وہ جھوٹ نہ بولیں۔وہ کسی کو زبان سے ایذا نہ دیں۔وہ کسی قسم کی بدکاری کے 35