شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں — Page 14
مغفرت ہوگی مگر شرک کو خدا نہیں بخشے گا۔پس شرک کے نزدیک مت جاؤ اور اس کو حرمت کا درخت سمجھو۔(ضمیمه تحفه گولڑویه روحانی خزائن جلد 17 صفحه 323-324 حاشیه) پھر فرمایا: ” یہاں شرک سے صرف یہی مراد نہیں کہ پتھروں وغیرہ کی پرستش کی جائے بلکہ یہ ایک شرک ہے کہ اسباب کی پرستش کی جاوے اور معبودات دنیا پر زور دیا جاوے۔اسی کا نام شرک ہے“۔(الحكم جلد 7 نمبر 24 مورخه 30 جون 1903 صفحه 11) پھر قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَإِذْ قَالَ لُقْمَنُ لِابْنِهِ وَهُوَ يَعِظُهُ يبُنَيَّ لَا تُشْرِكْ بِاللهِ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ ﴾ (القمن آیت (۱۴) اس کا ترجمہ یہ ہے : اور جب لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا جب وہ اسے نصیحت کر رہا تھا کہ اے میرے پیارے بیٹے اللہ کے ساتھ شریک نہ ٹھہرا یقیناً شرک ایک بہت بڑا ظلم ہے۔آنحضرت ﷺ کو اپنی امت میں شرک کا خدشہ تھا۔چنانچہ ایک حدیث ہے: عبادہ بن نسی نے ہمیں شداد بن اوس کے بارہ میں بتایا کہ وہ رورہے تھے۔ان سے پوچھا گیا کہ آپ کیوں رو رہے ہیں؟ اس پر انہوں نے کہا۔مجھے ایک ایسی چیز یاد آگئی تھی جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی اس پر مجھے رونا آ گیا۔میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا تھا آپ نے فرمایا۔میں اپنی امت کے بارہ میں شرک اور مخفی خواہشوں سے ڈرتا ہوں۔راوی کہتے ہیں۔میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا آ کی امت آپ کے بعد شرک میں مبتلا ہو جائے گی ؟ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم 14