شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 187 of 203

شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں — Page 187

66 کرو جودی جاتی ہے۔وہ تعلیم کیا ہے؟ آپ فرماتے ہیں کہ : ” فتنہ کی بات نہ کرو۔شر نہ کرو۔گالی پر صبر کرو۔کسی کا مقابلہ نہ کرو۔جو مقابلہ کرے اس سے سلوک اور نیکی سے پیش آؤ۔شیریں بیانی کا عمدہ نمونہ دکھلاؤ۔بچے دل سے ہر ایک حکم کی اطاعت کرو کہ خدا تعالی راضی ہو اور دشمن بھی جان لے کہ اب بیعت کر کے یہ شخص وہ نہیں رہا جو کہ پہلے تھا۔مقدمات میں سچی گواہی دو۔اس سلسلہ میں داخل ہونے والے کو چاہئے کہ پورے دل، پوری ہمت اور ساری جان سے راستی کا پابند ہو جاوے۔دنیا ختم ہونے پر آئی ہوئی ہے۔(ملفوظات جلد سوم جدید ایڈیشن صفحه ۲۲۰ ۲۲۱) اب یہاں جس طرح آپ نے فرمایا کہ فتنہ کی بات نہ کرو۔بعض لوگوں کو عادت ہوتی ہے کہ صرف مزا لینے کے لئے عادتا ایک جگہ کی بات دوسری جگہ جا کر کر دیتے ہیں اور ان سے فتنہ پیدا ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔مختلف قسم کی طبائع ہوتی ہیں، جس کے سامنے بات کی اور بات بھی اس کے متعلق کی تو قدرتی طور پر اس شخص کے دل میں اس دوسرے شخص کے بارہ میں غلط ر بخش پیدا ہوگی جس کی طرف منسوب کر کے وہ بات کی جاتی ہے اور وہ بات اسے پہنچائی گئی ہے۔تو یہ بخش گومیرے نزدیک پیدا نہیں ہونی چاہئے ایسے فتنوں کو روکنے کا بھی یہ طریقہ ہے کہ جس کی طرف منسوب کر کے بات پہنچائی گئی ہو اس کے پاس جا کر وضاحت کر دی جائے کہ آیا تم نے یہ باتیں کی ہیں یا نہیں ، یہ بات میرے تک اس طرح پہنچی ہے۔تو وہیں وضاحت ہو جائے گی اور پھر ایسے فتنہ پیدا کرنے والے لوگوں کی اصلاح بھی ہو جائے گی۔تو بعض 187