شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں — Page 182
اس حدیث پر غور کرنے کی بجائے اور جنہوں نے غور کیا ہے اور اس کی تہ تک پہنچے ہیں ان کی بات سمجھنے کے بجائے آج کل کے علماء اس کے ظاہری معنوں کے پیچھے پڑ گئے ہیں اور سادہ لوح مسلمانوں کو اس طرح غلط راستے پر ڈال دیا ہوا ہے اور وہ طوفان بدتمیزی پیدا کیا ہوا ہے کہ خدا کی پناہ۔ہم تو اللہ تعالیٰ کی پناہ ہی ڈھونڈتے ہیں، وہ ان سے نمٹ بھی رہا ہے اور انشاء اللہ آئندہ بھی نمٹے گا۔اس حدیث سے صاف ظاہر ہے کہ مسیح موعود منصف مزاج حاکم ہوگا جس نے انصاف کے علاوہ کوئی بات ہی نہیں کرنی اور ایسا امام ہے جس نے عدل کو دنیا میں قائم کرنا ہے اس لئے اس سے تعلق جوڑنا، اس کے حکموں پر چلنا ، اس کی تعلیم پر عمل کرنا کیونکہ اس نے انصاف اور عدل ہی کی تعلیم دینی ہے اور وہ سوائے قرآنی تعلیم کے اور کوئی ہے ہی نہیں۔آج کل کے یہ لوگ اس طرح صلیب کو توڑنے کے پیچھے چل پڑے ہیں کہ ہتھوڑے لے کر مسیح آئے گا اور صلیب تو ڑے گا۔یہ سب فضول باتیں ہیں۔صاف ظاہر ہے کہ وہ آنے والا مسیح اپنے آقا اور مطاع کی پیروی میں دلائل سے قائل کرے گا اور دلائل سے ہی صلیبی عقیدے کا قلع قمع کرے گا، اس کی قلعی کھولے گا۔دجال کو قتل کرنے سے یہی مراد ہے کہ دجالی فتنوں سے امت کو بچائے گا۔پھر چونکہ مذہبی جنگوں کا رواج ہی نہیں رہے گا اس لئے ظاہر ہے کہ جزیہ کا بھی رواج اٹھ جائے گا۔اور پھر اس حدیث میں سلام پہنچانے کا بھی حکم ہے۔اور مسلمان سلام پہنچانے کی بجائے آنے والے مسیح کی مخالفت پر تلے ہوئے ہیں۔اللہ ہی انہیں عقل دے۔پھر ایک اور حدیث ہے جس سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقام کا پتہ 182