شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 165 of 203

شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں — Page 165

فرمایا : ”میں پھر کہتا ہوں کہ جو لوگ نافع الناس ہیں اور ایمان، صدق و وفا میں کامل ہیں، وہ یقیناً بچالئے جائیں گے۔پس تم اپنے اندر یہ خوبیاں پیدا کرو۔(ملفوظات جلد چہارم۔صفحہ ۱۸۴۔جدید ایڈیشن) فرمایا: ” سو تم اُس کی جناب میں قبول نہیں ہو سکتے جب تک ظاہر و باطن ایک نہ ہو۔بڑے ہو کر چھوٹوں پر رحم کرو، نہ اُن کی تحقیر۔اور عالم ہو کر نا دانوں کو نصیحت کرو، نہ خود نمائی سے اُن کی تذلیل۔اور امیر ہو کر غریبوں کی خدمت کرو، نہ خود پسندی سے اُن پر تکبر۔ہلاکت کی راہوں سے ڈرو۔خدا سے ڈرتے رہو اور تقویٰ اختیار کرو۔کیا ہی بدقسمت وہ شخص ہے جو ان باتوں کو نہیں مانتا جو خدا کے منہ سے نکلیں اور میں نے بیان کیں۔تم اگر چاہتے ہو کہ آسمان پر تم سے خدا راضی ہو تو تم باہم ایسے ایک ہو جاؤ جیسے ایک پیٹ میں سے دو بھائی۔تم میں سے زیادہ بزرگ وہی ہے جو زیادہ اپنے بھائی کے گناہ بخشتا ہے۔اور بد بخت ہے وہ جو ضد کرتا ہے اور نہیں بخشا۔“ (کشتی نوح روحانی خزائن جلد ۱۹۔صفحه ۱۲ تا ۱۳) فرمایا: ” دراصل خدا تعالیٰ کی مخلوق کے ساتھ ہمدردی کرنا بہت ہی بڑی بات ہے اور خدا تعالیٰ اس کو بہت پسند کرتا ہے۔اس سے بڑھ کر اور کیا ہوگا کہ وہ اس سے اپنی ہمدردی ظاہر کرتا ہے۔عام طور پر دنیا میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے کہ اگر کسی شخص کا خادم کسی اس کے دوست کے پاس جاوے اور وہ شخص اس کی خبر بھی نہ لے تو کیا وہ آقا جس کا کہ وہ خادم ہے اس اپنے دوست سے خوش ہوگا ؟ کبھی نہیں۔حالانکہ اس کو تو کوئی تکلیف اس نے نہیں دی، مگر نہیں۔اس نوکر کی خدمت اور اس کے ساتھ حسن سلوک گویا مالک 165