شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 161 of 203

شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں — Page 161

نجات دے دیتا ہے۔نتیجہ یہ ہوتا ہے ﴿ فَوَقهُمُ اللَّهُ شَرَّ ذَلِكَ الْيَوْمِ وَلَقَهُمْ نَضْرَةً وَّسُرُوْرًا ﴾ (۱) خدا تعالیٰ اس دن کے شر سے بچالیتا ہے اور یہ بیچانا بھی سرور اور تازگی سے ہوتا ہے۔میں پھر کہتا ہوں کہ یا درکھو آج کل کے ایام میں مسکینوں اور بھوکوں کی مدد کرنے سے قحط سالی کے ایام کی تنکیوں سے بچ جاؤ گے۔خدا تعالیٰ مجھے کو اور تم کو توفیق دے کہ جس طرح ظاہری عزتوں کے لئے کوشش کرتے ہیں ابدالا باد کی عزت اور راحت کی بھی کوشش کریں۔آمین ( حقائق الفرقان جلد ۴ صفحه۲۹۰۔۲۹۱) یہ جماعت احمدیہ کا ہی خاصہ ہے کہ جس حد تک توفیق ہے خدمت خلق کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہے اور جو وسائل میسر ہیں ان کے اندر رہ کر جتنی خدمت خلق اور خدمت انسانیت ہو سکتی ہے کرتی ہے ، انفرادی طور پر بھی اور جماعتی طور پر بھی۔احباب جماعت کو جس حد تک توفیق ہے بھوک مٹانے کے لئے ،غریبوں کے علاج کے لئے تعلیمی امداد کے لئے غریبوں کی شادیوں کے لئے ، جماعتی نظام کے تحت مدد میں شامل ہو کر بھی عہد بیعت کو نبھاتے بھی ہیں اور نبھانا چاہئے بھی۔اللہ کرے ہم کبھی ان قوموں اور حکومتوں کی طرح نہ ہوں جو اپنی زائد پیداوار ضائع تو کردیتی ہیں لیکن دُکھی انسانیت کے لئے صرف اس لئے خرچ نہیں کرتیں کہ ان سے ان کے سیاسی مقاصد اور مفادات وابستہ نہیں ہوتے یا وہ مکمل طور پر ان کی ہر بات ماننے اور ان کی Dictation لینے پر تیار نہیں ہوتے۔اور سزا کے طور پر ان قوموں کو بھوکا اور ننگا رکھا (۱) آلدهر آیت ۱۲ 161